سیر روحانی — Page 533
۵۳۳ اُنکو شکست دے دی جائے گی اور وہ پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ جائیں گے۔گویا ابھی کوئی حملہ نہیں ہوا ، کوئی حکومت نہیں دشمن کے حملہ کی بارہ سال پہلے خبر بنی ، کوئی فوج نہیں آئی اور بارہ سال پہلے۔خبر دے دی جاتی ہے کہ یہ لوگ حملہ کے لئے آئیں گے لیکن جب اِدھر سے یہ جمع ہو رہے ہونگے اُدھر سے خدا اپنے گورنر کی مدد کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہو گا اور اُسے دیکھ کر دشمن کی فوج حواس باختہ ہو جائے گی اور اُسے بھاگنا پڑے گا۔یہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان خدا کا بن جائے۔جب وہ خدا کا بن جاتا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ کسی جگہ پر ہو اور خدا وہاں نہ ہو۔جب بھی دنیا میں لوگ ایسے شخص کے پاس پہنچیں گے اُسے اکیلا نہیں پائیں گے بلکہ خدا کو اُس کے پاس کھڑا پائیں گے اور انسان کا لوگ مقابلہ کر سکتے ہیں خدا کا نہیں کر سکتے۔بَلِ السَّاعَةُ اَدھی وَاَمرُّ۔فرماتا ہے وہ جو گھڑی ہوگی وہ فرعون کی گھڑی سے بھی زیادہ خطر ناک ہو گی۔بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ فرعون کی گھڑی زیادہ سخت تھی اس لئے کہ وہ ڈوب کر مر گیا اور اُس کی فوج تباہ ہوگئی لیکن واقع میں دیکھیں تو کفار کو جو سزا ملی وہ فرعون کی سزا سے زیادہ سخت تھی۔فرعون کا لشکر تباہ ہو الیکن موسیٰ کو مصر کا قبضہ نہیں ملا۔موسی آگے چلے گئے اور کنعان پر جا کر قابض ہوئے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں جو دشمن آیا اُس کو صرف شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس کے ملک پر بھی قبضہ ہو گیا۔یہ بَلِ السَّاعَةُ آدھی وَاَمَر ہی تھا کہ موسی کے دشمن فرعون کو جو سزا ملی اُس سے ان کی سزا زیادہ سخت تھی کیونکہ یہ قومی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت آگئے۔مدینہ منورہ میں اسلام کی اشاعت آب جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ خبر ایسے وقت میں دی گئی تھی جبکہ اسلامی حکومت ابھی بنی بھی نہیں تھی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنا پڑا۔پہلے تو یہ ہوا کہ مدینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔کسی کو کیا خبر ہو سکتی تھی کہ مدینہ کے لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا۔وہ تین چار سو میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جن کے مکہ والوں کے ساتھ کوئی ایسے تعلقات بھی نہیں تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ چونکہ مدینہ والوں کی نواسی تھیں اس لئے صرف اتنا تعلق تھا اس سے زیادہ نہیں تھا لیکن حج