سیر روحانی — Page 532
۵۳۲ ہوئے۔گویا اَخَذَ عَزِيزِ تو تھا مگر اَخَذَ عَزِيزِ مُقْتَدِرِ نہیں تھا یعنی پکڑ تو لیا وہ نکلا نہیں مگر جو چاہتے تھے کہ سزا دیں اُس میں وہ کامیاب نہ ہوئے۔پھر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجرم ان کی سزا سے بھی پہلے نکل جاتا ہے جیسے کئی مجرم جیل خانوں سے بھاگ جاتے ہیں کئی مقدموں سے پہلے بھاگ جاتے ہیں ،کئی پولیس کی ہتھکڑیوں سے نکل جاتے ہیں، بعض دفعہ اطلاع ملنے سے پہلے ہی بھاگ جاتے ہیں اور پھر ساری عمر نہیں پکڑے جاتے ہیں، بعض دفعہ پولیس اُن کے پیچھے تمیں تمہیں سال تک ماری ماری پھرتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دُنیوی حکومتوں میں تو یہ دو باتیں ہوا کرتی ہیں یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مجرم بھاگ جاتا ہے لیکن ہم ایسا پکڑیں گے کہ وہ بھاگ نہیں سکے گا۔پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکومت پکڑ تو لیتی ہے مگر جو سزا اُس کے لئے تجویز کرتی ہے وہ اُس کو نہیں دے سکتی۔پھانسی دینا چاہتی ہے تو اتفاقیہ طور پر مجرم مر جاتا ہے ، ہارٹ فیل ہو کر مر جاتا ہے ، زہر کھا کر مر جاتا ہے، کسی نہ کسی طرح اُن کے قبضہ سے نکل جاتا ہے مگر ہم اَخَذَ عَزِيزِ مُقْتَدِرِ کی طرح انہیں پکڑیں گے ہم اس طرح پکڑیں گے کہ وہ بھاگ بھی نہیں سکیں گے اور پھر جو سزا تجویز کریں گے وہی اُن کو ملے گی۔پھر فرماتا ہے اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ اے مکہ والو! تم بتاؤ تو سہی کہ وہ جو موسی کے منکر تھے کیا تم اُن سے بہتر ہو۔اگر موسی کے منکروں کو یہ سزائیں ملی تھیں تو تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو۔آیا یہ کہ تمہیں وہ سزا ئیں نہیں مل سکتیں یا نہیں دی جا سکتیں جو مونٹی کی قوم کو دی گئیں یا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی ضمانت آئی ہوئی ہے کہ ہم نے مکہ والوں کو کچھ نہیں کہنا۔مکہ والے کہتے تھے کہ خانہ کعبہ ہماری حفاظت کا سامان ہے۔فرماتا ہے وہ تو خانہ کعبہ کی حفاظت کا وعدہ تھا تمھارے لئے تو کوئی وعدہ نہ تھا۔خدا نے یہ تو وعدہ کیا کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کرے گا مگر یہ تو وعدہ نہیں کہ تم کو بھی سزا نہیں دے گا۔اَمُ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنتَصِرٌ - کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑا جتھہ رکھتے ہیں اور ہم ان مسلمانوں سے سخت بدلہ لینے والے ہیں ہم انکو تباہ کر کے چھوڑیں گے۔سَيْهُزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ- فرمایا ٹھیک ہے یہ حملے کریں گے اور قوموں کی قومیں اکٹھی ہو جائیں گی ، سارا ملک جمع ہو جائے گا اور جمع ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملک پر حملہ کریں گے لیکن سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - اُن کے لشکر جو ا کٹھے ہونگے