سیر روحانی — Page 534
۵۳۴ کے موقع پر مدینہ سے کچھ لوگ آئے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے بھی آگئے۔آپ نے فرمایا۔اگر آپ لوگ مجھے اجازت دیں تو میں آپ لوگوں کو کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔مکہ کے لوگ آگے سے مارنے پیٹنے اور گالیاں دینے لگ جاتے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ پیچھے نہیں پڑتے تھے بلکہ پہلے آپ ان لوگوں سے اجازت مانگتے تھے اسی طریق کے مطابق آپ نے فرمایا کہ اگر اجازت ہو تو میں تمہیں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔چونکہ مدینہ کے لوگوں کو معلوم تھا کہ آپ ہمارے نواسے ہیں اس لئے انہوں نے کہا تم تو ہمارے نوا سے ہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو مگر تمہاری قوم کے لوگ تو کہتے ہیں کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔آپ نے فرمایا تم میری باتیں سُن لو اور پھر بیٹھ کر انہیں اسلام کی تعلیم دی۔انہوں نے کہا یہ باتیں تو بڑی معقول ہیں مگر تمہاری قوم کے لوگ تو یہی کہتے تھے کہ تم پاگل ہو لیکن بات یہ ہے کہ ہماری قوم میں بڑی جتھہ بندی ہوتی ہے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس وقت کوئی فیصلہ نہ کریں ہم واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو یہ باتیں سُنائیں گے اگر قوم کو توجہ پیدا ہوئی تو ہم پھر دوبارہ آئیں گے چنانچہ وہ واپس گئے او رانہوں نے مدینہ میں اسلام کی تعلیم پھیلانی شروع کی۔لوگوں نے سُنا تو اُن میں سے درجنوں آدمی آپ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہا یہ باتیں سچی ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک بڑا ذریعہ ان کے لئے یہ بن گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے پہلے یہودی لوگ اپنے بزرگوں کی پیشگوئیاں اسرائیلی انبیاء واولیاء کی پیشگوئیاں سُنا یا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہو گا اور ہمیں یقین ہے کہ چونکہ نبی ہم میں سے ہی ہوسکتا ہے اس لئے وہ ہماری قوم میں سے ہو گا بلکہ مدینہ کے جو یہودی تھے وہ اسی لئے ہجرت کر کے وہاں آبسے تھے کہ کسی نے کتابوں میں سے اُن کو یہ پیشگوئیاں سُنا ئیں تو انہوں نے کہا وہ نبی ہم میں سے آ جائے اس لئے ہم عرب میں چلے جاتے ہیں۔غرض اُن میں یہ پیشگوئیاں تھیں کہ آنے والا نبی عرب میں ظاہر ہو گا اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ وہ نبی ان یہودیوں میں سے ہو گا جو مدینہ جا کر رہیں گے اسی وجہ سے وہ ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے آپس میں کہا کہ وہ جو یہودی کہا کرتے تھے کہ نبی ہم میں سے آئے گا وہ تو جھوٹی بات ہے۔