سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 900

سیر روحانی — Page 514

۵۱۴ تکالیف کے باوجود آپ جس پیغام کو لیکر کھڑے ہوئے تھے اُسے اُٹھتے بیٹھتے، سوتے اور جاگتے آپ نے لوگوں تک پہنچایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے پائے ثبات میں جنبش نہیں آئی۔سخاوت آپ کے اندر اس قدر پائی جاتی تھی کہ اگر آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی اور سخاوت وہ آپ کے پاس موجود ہوتی تو آپ اس کے دینے میں کبھی دریغ نہ فرماتے اور یہ سخاوت عمر بھر آپ کا معمول رہی مگر صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے ایام آتے تو اُن دنوں آپ کی سخاوت کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسعت اختیار کر لیتا ، ۱۳۲ اسی سخاوت کا یہ نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کے گھر میں کوئی درہم اور دینار موجود نہیں تھا حالانکہ آپ اُس وقت عرب کے بادشاہ بن چکے تھے۔رحم دلی حیا آپ کے اندر اسقدر پایا جاتا تھا کہ صحابہ کہتے ہیں آپ ایک کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔۱۳۳ رحم آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اُس پر رحم نہیں کیا جا تا ۱۳۴ آپ کا ایک نواسہ ایک دفعہ بیمار ہوا اور اُس کی حالت نازک ہو گئی۔آپ کی بیٹی نے آپ کی طرف پیغام بھیجا، آپ تشریف لائے اور بچے کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ، ایک صحابی کہنے لگے یا رَسُولَ اللہ ! آپ بھی روتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے سخت دل نہیں بنایا۔۱۳۵ عدل و انصاف انصاف آپ کے اندر اس قدر پا یا جا تا تھا کہ ایک دفعہ کسی بڑے خاندان کی عورت نے چوری کی اور وہ پکڑی گئی اس پر بعض لوگوں نے چاہا کہ اسکے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ اسے کوئی سزا نہ دی جائے کیونکہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے اس غرض کے لئے انہوں نے حضرت اسامہ کو تیا ر کیا۔اسامہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق سفارش کی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرے تو میں اُسکے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔۱۳۶ بدر کی جنگ میں جن کفار کو مسلمانوں نے قید کر لیا تھا اُن میں حضرت عباس بھی شامل تھے اور چونکہ وہ ناز و نعمت میں پلے ہوئے تھے اس لئے جب انہیں رسیوں سے جکڑا گیا تو انہوں نے شدّت تکلیف کی وجہ سے کراہنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے