سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 900

سیر روحانی — Page 515

۵۱۵ کانوں میں ان کے کراہنے کی آواز پہنچتی تو آپ بے چینی میں بار بار کروٹیں بدلتے مگر زبان سے کچھ نہیں فرماتے تھے۔صحابہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو وہ کی سمجھ گئے کہ اس کی وجہ حضرت عباس کا کراہنا ہے وہ چپکے سے اُٹھے اور انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور اُن کے کراہنے کی آواز بند ہو گئی۔تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کو کے کانوں میں حضرت عباس کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے صحابہ سے فرمایا عباس کے کراہنے کی آواز کیوں نہیں آ رہی؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی تکلیف کے خیال سے اُن کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں آپ نے فرمایا یہ انصاف کے خلاف ہے کہ باقی قیدیوں کو سختی سے جکڑا جائے اور عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں۔جاؤ اور یا تو عباس کی رسیاں بھی گس دو اور یا پھر باقی قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دو۔۱۳۷ قیصر روما کے دربار میں ابوسفیان کا اقرار غرض جس پہلو کے لحاظ سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے آپ تعریف ہی تعریف کے قابل دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب قیصر روما نے ابوسفیان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مختلف سوالات کئے تو ہر سوال کے جواب میں اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبی اور آپ کے کمال کا اعتراف کرنا پڑا۔جب اس نے پوچھا کہ اس شخص کا خاندان کیسا ہے تو ابوسفیان نے کہا کہ وہ ایک نہایت معزز خاندان میں سے ہے، جب اُس نے پوچھا کہ کیا دعوی سے پہلے تم نے کبھی اسے کسی بُرائی میں مبتلاء دیکھا تو اُس نے کہا ہر گز نہیں ، جب اُس نے پوچھا کہ اس کی عقل اور اصابت رائے کا کیا حال ہے تو ابوسفیان کو یہی کہنا پڑا کہ ہم نے اُس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا ، جب اُس نے پوچھا کہ کیا اُس نے کبھی بد عہدی بھی کی ہے تو ابوسفیان نے کہا کہ اس نے آج تک کوئی بدعہدی نہیں کی ، جب اُس نے پوچھا کہ وہ تمہیں کن باتوں کی تعلیم دیتا ہے تو ابوسفیان نے کہا کہ ہمیں یہی کہتا ہے کہ ہم سچ بولا کریں ، خدائے واحد کی عبادت کیا کریں ، وفائے عہد سے کام لیں، امانت اور دیانت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں اور ہر قسم کے ناپاک اور گندے کاموں بچیں۔۱۳۸ غرض باوجود مخالفت کے اُسے ہر سوال کے جواب میں آپ کی طہارت اور پاگیزگی کا اقرار کرنا پڑا اور قیصر روما کے بھرے دربار میں اُسے آپ کے مناقب کا ترانہ گانا پڑا کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ ہم تجھے مقام محمود عطا کرنے والے ہیں۔آج مکہ والے تجھے