سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 900

سیر روحانی — Page 513

۵۱۳ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ مقام محمود عطا کیا کہ آپ کا حسن کبھی دشمن کی آنکھوں میں بھی عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی آپ کی ستائش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پھر اخلاق فاضلہ کو لو تو اخلاق فاضلہ کے لحاظ سے محمد رسول اللہ کا بلند مقام کوئی خُلق نہیں جس میں آپ نے دنیا کے لئے ایک بے مثال نمونہ نہ چھوڑا ہو اور ہر شخص آپ کے ان اخلاق کو دیکھ کر آپ کی تعریف کرنے پر مجبور نہ ہو مثال کے طور پر بہادری کو لے لو، استقلال کو لے لو، سخاوت کو لے لو، حیا کو لے لو، انصاف کو لے لو، رحم کو لے لو، دوستوں اور دشمنوں سے آپ کے معاملات کو دیکھ لو، جنگ میں آپ کی ہوشیاری کو دیکھ لو، عورتوں اور بچوں سے معاملات کو لے لو، آپ کے تنظیمی کارناموں پر نظر ڈالو، آپ کی جرنیلی شان کو ملاحظہ کرو تمہیں دکھائی دیگا کہ ہر پہلو کے لحاظ سے آپ کو مقام محمود حاصل ہے اور ہر معاملہ میں دنیا آپ کی اقتداء کرنے پر مجبور ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری آپ کی بہادری کی یہ کیفیت تھی کہ مدینہ میں ایک دفعہ باہر جنگل کی طرف سے شور کی آواز آئی ، ان دنوں یہ خبریں مشہور ہو رہی تھیں کہ روما کی حکومت مدینہ پر حملہ کر نیوالی ہے، اس شور کی آواز پر تمام مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور وہ اس ارادہ کے ساتھ مسجد میں جمع ہوئے کہ مشورہ کے بعد کچھ لوگوں کو باہر بھجوا دیا جائے جو دیکھیں کہ یہ کیسا شور ہے مگر ابھی وہ جمع ہی ہو رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے باہر سے تشریف لا رہے ہیں، آپ نے آتے ہی فرمایا میں شور کی آواز سنکر فوراً باہر چلا گیا تھا اور میں نے چکر لگا کر دیکھ لیا ہے خطرہ کی کوئی بات نہیں ، اطمینان سے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔۱۳۰ صبر و استقلال صبر و استقلال آپ کے اندر اس قدر پا یا جا تا تھا کہ مکی زندگی میں کفار کی طرف سے آپ کو سخت سے سخت تکالیف دی گئیں ، آپ کو بُرا بھلا کہا گیا ، آپ کو شعب ابی طالب میں ایک لمبے عرصہ تک محصور رکھا گیا، آپ کا مقاطعہ کیا گیا ، آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اسقدر گھونٹا گیا کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں ، آپ پر پتھروں کی اسقدر بوچھاڑ کی گئی کہ طائف سے آتے وقت آپ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے ۳۱ مگر ان تمام