سیلابِ رحمت — Page 380
وو کتنے کھنڈر محل بنائے گئے کتنے محلوں کے کھنڈرات بنے اکثر و بیشتر تو خاکسار کے بچگانہ بلکہ بیوقوفانہ مشوروں پر تبصرہ میں معرفت کے نکتے حاصل ہوئے۔دو مقامات ایسے بھی ہیں جہاں ڈھنگ سے توجہ نہ دلا سکنے کی وجہ سے وضاحت موصول ہوئی۔مثلاً مندرجہ بالا شعر میں کھنڈر کے دن کی آواز نون غنہ ہوتی تو بہتر تھا۔خوف اس قدر مسلط تھا کہ نہ جانے کیا لکھ دیا۔مناسب وضاحت نہ کی جواب موصول ہوا۔دوسرے خط میں جو آپ نے کھنڈر لفظ پر نظر ثانی کیلئے بڑی ہی ملائمت سے توجہ دلائی ہے اس کیلئے معذرت کی تو کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن آپ نے وضاحت نہیں کی کہ اس پر اعتراض کیا ہے۔مجھے ابھی سمجھ نہیں آئی کہ لفظ کھنڈر پر اعتراض کیا ہے۔اگر یہ وہم ہے کہ کبھی کھنڈر حل نہیں بنائے گئے تو یہ درست نہیں۔تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ بار ہا کئی شہرا جڑے اور پھر آباد کئے گئے اور جو محل کبھی آباد تھے ان کے کھنڈروں کو آبادکیا گیا۔موہنجودڑو کے متعلق یہی ذکر آتا ہے ویسے بھی دنیا میں یہی ملتا ہے کہ بعض محل ویران ہوئے اور پھر ان کھنڈرات کو آباد کیا گیا۔اگر کوئی اور بات ہے تو بے تکلفی سے لکھیں۔سقم کی طرف توجہ دلانا تو قابل تحسین ہے۔بے شک مجھے بتائیں کیا کمزوری نظر آ رہی ہے۔غالباً دلی والے لفظ کھنڈر پڑھتے ہیں۔اگر یہ بات ہے تو شعر یوں کر لیں ؎ جو کھنڈر تھے محل بنائے گئے اور محلوں کے کھنڈرات بنے 376 ( مکتوب 11 دسمبر 1989ء )