سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 381 of 418

سیلابِ رحمت — Page 381

نظم نمبر -18 بلائے ناگہاں اک نت نیا مولا نا آتا ہے ”ہر مولانافی ذاتہ بلائے ناگہاں ہے۔وہ کوئی خاص خاص مولانا نہیں جو بلائے ناگہاں ہوں۔بلکہ ہر مولا نا جب آتا ہے بلائے ناگہاں کی طرح ہی آتا ہے۔کبھی ایک ہی بار بار آتا ہے کبھی نت نیا۔میرے ذہن میں نت نیا مولانا کے آنے کا تصور تھا۔بن کر آنے کا محاورہ میرے دل کی بات ظاہر نہیں کرتا میں تو ہر مولوی کو ہی بلائے ناگہاں سمجھتا ہوں۔اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا جائے نت نیا' کہہ کر تو ان کی روزانہ بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ مقصود ہے اور جتنے بھی آتے ہیں ہمیشہ بلائے ناگہاں ہی ثابت ہوں گے۔“ نظم نمبر۔21 مکتوب 16۔1۔93 صفحہ 26-27) کچھ لوگ گنوا بیٹھے دن کو جو یار کما یا ساری رات " آپ کی تجویز یہ ہے کہ لوگ گنوا بیٹھے سب دن کو جو بھی کمایا ساری رات لیکن اس میں عمومیت کی آگئی ہے جو اچھا برا کما یا وہ دن کو گنوا دیا۔جبکہ جو مضمون میرے پیش نظر ہے اس میں خدا کمانے اور ساری رات اس کی عبادت میں گزارنے کا مضمون ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ اگر انسان را تیں تو ذکر الہی میں گزارے اور دن بھر دنیا کے پیچھے 377