سیلابِ رحمت — Page 379
سیلاب رحمت شکریہ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء ( مکتوب 22اکتوبر 1993ء) نظم نمبر 14 تو مرے دل کی شش جہات بہنے“ اس نظم میں تبدیلیاں اور ان کی حکمتیں ملاحظہ ہوں۔پیارے آقا تحریر فرماتے ہیں : ترے منہ کی سبک سبک باتیں دل کے بھاری معاملات بنے پر نظر ثانی کی آپ نے خواہش کی ہے۔یہ مضمون دراصل حدیث کلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في المیزان۔۔۔‘ سے اخذ کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے تیرے منہ کی ملکی ہلکی باتیں ہمارے دل کی بڑی وزنی باتیں بن جاتی ہیں۔آپ کی بات درست ہے کہ بنے کی ضمیر باتیں کی طرف جاتی ہے جو مؤنث ہے لہذا بنے نہیں بلکہ بنیں، چاہئے تھا۔اس مصرع کو بدل کر میں نے یوں کر دیا ہے ؎ تیرے منہ کے سبک سہانے بول دل کے بھاری معاملات بنے اگر سہانے کی بجائے آپ ریلئے پسند کریں تو اسے سبک رسیلے بول کر دیا جائے لیکن سبک سہانے زبان پر زیادہ ہلکا ہلکا لگتا ہے۔“ 66 ( مکتوب 93-10-22 صفحہ 3) 375