سیلابِ رحمت — Page 350
سیلاب رحمت کبھی بائیں قابل دید مقامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ماشاء اللہ آپ کو یہ خوب فن عطا ہوا ہے۔اللہ آپ کی ذہنی، قلبی صلاحیتوں کو اور بھی چمکائے اور روشن تر فرمائے۔خلاصہ آخری بات کا یہی ہے کہ اگر آپ متوجہ نہ کراتیں تو شاید اپنے کلام پر نظر ثانی کی توفیق ہی نہ ملتی اور ملتی بھی تو بہت محنت کرنی پڑتی۔آپ نے تو ایک ایک جگہ جہاں ضرورت تھی کہ توجہ کی جائے ہاتھ لگا لگا کر دکھا دی۔امید ہے جب باقی مسودہ آئے گا تو پھر باقی کام بھی انشاء اللہ اسی طرح آسان ہو جائے گا۔اب تو اس کی شدت سے انتظار ہے۔ابھی تک تو آپ نے بھیجاہی نہیں حالانکہ اب تک دیر کرنے کا دوش مجھ پر رہا۔۔۔امید ہے جب آپ کلام شائع کرائیں گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مستند ہوگا اور وہ لوگ جو اپنی طرف سے نئے نئے نمونے شائع کراتے رہتے ہیں وہ سلسلہ اب ختم ہو جائے گا۔اللہ آپ کے ساتھ ہو۔(مکتوب 28 فروری 1993ء) شوکت مضمون اور کیفیات کی لطافت کی چند مثالیں جو مشورے حضور پر نور کو بھجوائے تھے ان میں محترم محمد سلیم صاحب شاہجہانپوری کی آراء بھی شامل تھیں۔حضور نے ہمیں فن شعر اور فن اصلاح، خاص طور پر اشعار میں مضامین کے بیان کی اہمیت سمجھائی۔یہ اس لائق ہے کہ اعلیٰ پائے کی تنقیدی کتب میں جگہ پائے۔آپ نے تحریر فرمایا: 346