سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 349 of 418

سیلابِ رحمت — Page 349

رحمت پس منظر یہ ہے کہ 1991ء میں کلام طاہر دیکھ کر خیال آیا کہ طباعت شایانِ شان نہیں ہے۔چھوٹی سی پتلی سی کتاب کتابت کی غلطیاں نظمیں نامکمل، سرورق پر دھندلی تصویر۔یہ کتاب تو اس سے بہت بہتر طریق پر شائع ہونی چاہئے۔کیوں نہ لجنہ کراچی یہ کام کرلے۔اپنی رفیقہ کار مسز برکت ناصر سے مشورہ کیا تو وہ اچھل پڑیں۔ہم نے دعا کی اور حضور پر نور سے اجازت حاصل کرنے کیلئے خط لکھ دیا۔22 مارچ 1992ء کو حضور کا تحریر کردہ مکتوب موصول ہوا: " آپ نے جو کلام طاہر کے متعلق لکھا ہے اس پر آپ کا شکریہ۔اس میں کئی جگہیں ایسی ہیں جن میں ابھی تک پوری تسلی نہیں۔شاید کسی وقت اصلاح کا موقع مل جائے۔لیکن آپ کے نزدیک کوئی غلطی رہ گئی ہے تو اس کی طرف بھی متوجہ کریں اس کو بھی ٹھیک کر لیں گے۔اور پھر انشاء اللہ چھپوانے کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے۔کچھ پرانی نظموں میں سے بھی ایک آدھ شامل کی جاسکتی ہے۔“ خاکسار نے سرخوشی میں چند کتابت کی غلطیاں لکھیں اور کچھ اشعار پر نظر ثانی کی درخواست کی۔مقصد صرف یہ تھا کہ بات آگے بڑھے اور حضور اپنے کلام پر نظر ثانی کا کام شروع فرماویں۔حضور پر نور کا پذیرائی کا مکتوب ملا : " آپ کا خط ملا۔نثر میں ایسے لطیف اور اعلیٰ پائے کے شعر بہت کم پڑھنے میں آتے ہیں جیسے آپ کا یہ خط ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے لطیف اشاروں کے ساتھ بعض مضامین پر ایسے عمدہ تبصرے آپ نے کئے ہیں جیسے کسی خوبصورت سیر گاہ میں جاتے ہوئے انسان کبھی دائیں 345