سیلابِ رحمت — Page 351
وو سیلاب رحمت "۔۔شعر کی دنیا اس سے زیادہ وسیع ہے کہ زبان درست ہو اور غلطیوں سے پاک ہو اور محاورہ ٹکسالی کا ہو۔اوز ان کے لحاظ سے اور لفظوں کے استعمال کے لحاظ سے کلام نوک زبان پر بھاری نہ ہو۔بعض اوقات صحت زبان اور صحت محاورہ کے تقاضے جذبات کی شدت کے اظہار اور اظہار حق سے متصادم ہو جاتے ہیں یعنی اظہار حق جس زبان میں ممکن ہو اس سے بہتر مرصع زبان میں مگر حق سے کچھ ہٹ کر ایک بات کی جاسکتی ہے۔بعض دفعہ ممکن نہیں رہتا کہ بیک وقت کوئی اپنے متموج جذبات اور سچائی اور گہرے درد کے تقاضے پورے کرتے ہوئے زبان کی صحت اور قاعدے قانون کی پابندی کا بھی حق ادا کر سکے۔ایسی صورت میں کبھی کبھی کچھ نہ کچھ مروج قاعدوں کو توڑ نا بھی پڑتا ہے اور استثناء کی نئی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں۔دنیا کے تمام چوٹی کے شعراء نے کیفیات کے اعلیٰ تقاضوں پر بارہا زبان دانی کی قیود کو قربان کیا ہے۔شیکسپیئر میں بھی یہ بات ملتی ہے اور غالب میں بھی۔اور دیگر شعراء میں بھی اپنے اپنے مرتبہ اور اسلوب کے اعتبار سے کچھ نہ کچھ ایسی مثالیں دکھائی دیتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اردو اور عربی کلام میں بھی یہی بالا اصول کارفرما ہے کہ شوکت مضمون اور کیفیات کی لطافت پر زبان دانی کے نسبتاً ادنی تقاضوں کو قربان کیا جائے۔۔۔( مكتوب 16 جنوری 1993 ء صفحہ 1) 347