سیلابِ رحمت — Page 19
سیلاب رحمت ابواب خزانے کی شکل میں جمع کر دئے گئے ہیں وہاں حضرت خلیفہ المسح الرابع" کی سیرت اور سوانح کا ایک ایسا قیمتی خزانہ ہے کہ جو اسی کتاب کا خاصہ ہے کہ اور کہیں سے یہ سوغات ملنے کی نہیں۔اس حساس اور خلافت کے عشق میں ڈوبی ہوئی شاعرہ اور ادیبہ نے بڑے قریب سے اس سراپا محبت وجود کودیکھا، اس کو محسوس کیا اور اپنی نظم ونثر میں اس کو بیان کیا۔اس کتاب کے صفحات 289 تا 302 پر مشتمل ایک باب باندھا جس کا عنوان ہے: " قلب طاہر کا درد اور دردمندی۔کلام طاہر کی روشنی میں اس میں انہوں نے بہت ہی خوبصورتی سے حضرت خلیفۃ امسیح الرابع” کے کلام کا انتخاب پیش کیا ہے۔جس سے ہر پڑھنے والا شعروں کے جھروکے سے اس دعا دعا چہرے اور سراپا محبت وجود کو جھانک کر دیکھ سکتا ہے اور محسوس کر سکتا ہے کہ خلیفہ مسیح کا اپنی جماعت کے ایک ایک فرد سے کتنا پیار تھا اور کس قدر جماعت کا غم اور دردتھا، جس کا سینہ جواں مرگ امنگوں کا مزار تھا جو ایک زیارت گاو صد قافلہ ہائے غم وحزن تھا۔جس کو اپنی والدہ سے اتنی محبت تھی کہ میٹرک کا امتحان دیتے ہوئے جو صدمہ گزرا تھا وہ ساری عمر ساتھ رہا۔نہ جانے کتنی بار اور اپنی عمر کے کس کس حصہ میں وہ اپنی والدہ کی تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہتا رہا تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ نظریں اٹھا خدا کے لئے ایک بار دیکھ اب جبکہ اپنی زندگی کی شام گہری ہونے لگی لیکن اپنی ماں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ اسی طرح آفتاب نیمروز کی طرح سینے میں موجزن تھی جس کا اظہار مریم شادی فنڈ کی تحریک سے ہوتا ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ ہی عرصہ قبل کی تھی۔19