سیلابِ رحمت — Page 18
رحمت لگتا ہے کہ ماشاء اللہ اردوزبان سے آپ خوب واقف ہیں۔اور نہ صرف اس کا استعمال جانتی ہیں بلکہ زبان بھی رکھتی ہیں۔“ ان کا لکھا ہوا ایک مضمون حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے پڑھا۔جس پر حضور کے تاثرات کی ایک جھلک اس مضمون کے حسن و لطافت کو چار چاند لگائے رکھے گی۔آپ نے رقم فرمایا: یہ مضمون پڑھتے ہوئے وہ سب یاد میں ہجوم در ہجوم امڈ آئیں۔جوں جوں پڑھتا گیا دل گداز ہوتا چلا گیا اور پانی برستا رہا۔کس نے اتنا اچھا مضمون لکھا ہے! اتنا سلجھاہوا،اتنا متوازن، اتناشستہ،مسکراہٹوں کے ریشم میں درد لیٹے ہوئے۔سنجیدہ باتوں کے ہمراہ ان کی انگلیاں پکڑے ہوئے ہلکی پھلکی لا ابالی باتیں بھی کمسن بچیوں کی طرح ساتھ ساتھ چلتی دوڑتی دکھائی دیتی تھیں۔“ ایک بار آپ نے ان کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا: آپ کا خط ملا۔نثر میں ایسے لطیف اور اعلیٰ پائے کے شعر بہت کم پڑھنے میں آتے ہیں جیسے آپ کا یہ خط ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے لطیف اشاروں کے ساتھ بعض مضامین پر ایسے عمدہ تبصرے آپ نے کتے ہیں جیسے کسی خوبصورت سیر گاہ میں جاتے ہوئے انسان کبھی دائیں کبھی بائیں قابل دید مقامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ماشاء اللہ آپ کو یہ خوب فن عطا ہوا ہے۔اللہ آپ کی ذہنی قلبی صلاحیتوں کو اور بھی چمکائے اور روشن تر فرمائے۔“ محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ کی اس کتاب میں جہاں جماعت کی تاریخ کے بہت سے 18