سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 20 of 418

سیلابِ رحمت — Page 20

رحمت ماں کی جدائی کے صدمہ کے بعد قادیان سے ہجرت کا ایک اور صدمہ آپ کو سہنا پڑا کہ جس کی یاد ہمیشہ آپ کو تڑپاتی رہی۔چوالیس سال کی جدائی کے بعد 1991 ء میں جب قادیان کی بستی کے گلے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار اس نظم میں کیا جو : ”اپنے دیس میں اپنی ایک سند رسی بستی تھی۔اس میں اپنا ایک سند رسا گھر تھا۔میں ملکوں ملکوں پھر ا مگر اس کی یادیں ساتھ لئے پھرا۔کبھی میرا تن من دھن اس کے اندر تھا اب وہ میرے من میں بستی ہے۔اس کے رہنے والے سادہ اور غریب تو تھے لیکن نیک نصیب تھے۔ہر بندہ دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔وہ بڑے سچے لوگ تھے، وہ بڑی سچی بستی تھی۔وہاں جو جتنا بڑا تھا اتنا ہی خاکسار تھا۔اس دھرتی میں وہ موعود مسیحا پیدا ہوا جسکا صدیوں سے انتظار تھا۔اس نے آکر دین حق کا احیاء کیا۔پوری دنیا سے حق آشنا یہاں جمع ہوتے۔اس قدر پھل پڑا کہ زندہ درخت میووں سے لد گئے۔اس مسیح موعود کی صورت میں جو نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق تھا، میں نے بھی اس سے فیض پایا ہے۔یہ اسی کا اثر ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی محبت ملی گویا خود خدا تعالیٰ مل گیا۔کیٹڑی سے کمتر کے گھر نارائن آ گیا۔اس کے سارے کام سنوار دئے۔برہا کے مارے اپنے گھر آئے ، اپنے مینارے دیکھے۔ساری بستی پر انورالہی کی بارش برستی دیکھی۔آنے والوں کے ساتھ فرشتے پر پھیلائے آئے۔سب کے سروں پر رحمت کا سایہ ہے۔سب کے چہروں پر لورالہی ہے۔سب کی آنکھوں میں پیار دیکھا۔اس منظر میں ایک کمی رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور 20