سیلابِ رحمت — Page 193
سیلار کرنے کا یہ موقع بہت اچھا تھا۔اس طرح آواز زیادہ احباب تک پہنچے گی۔ارادہ تو کر لیا مگر مجھے وڈیو ریکارڈ کرانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔تجربہ تھا تو جامعہ نصرت میں پڑھانے کا تھا۔جہاں ایک بلیک بورڈ ہوتا تھا چاک سے اس پر لکھ کر سمجھاتی تھی۔سٹوڈیو کا لفظ صرف کہانیوں میں پڑھا تھا کبھی دیکھا نہ تھا۔جب میں نے اپنی صدر صاحبہ کو اپنا خیال پیش کیا تو وہ خوش ہوئیں اور جماعت کی انتظامیہ کو بتایا کہ اس طرح ہماری ایک ممبر در ثمین کے مشکل الفاظ کے تلفظ اور معانی کا پروگرام کرنا چاہتی ہے۔گیسٹ ہاؤس سے فون آیا ( ضلع کراچی کے امیر صاحب اور ان کی انتظامیہ کے مرکزی دفاتر ڈیفنس کے علاقے میں دو خوبصورت جڑواں بنگلوں میں ہیں جنہیں گیسٹ ہاؤس کہتے ہیں) کہ پروگرام کرانے کی اجازت ہے۔آپ کو اس کے لئے کیا کیا چاہئے ہو گا ؟ میں نے کہا کہ ایک وائٹ بورڈ اور مار کر بس اور کچھ نہیں چاہئے۔محض تفنن طبع کے لئے یہ بھی لکھ دوں کہ پوچھا گیا ان چیزوں کا خرچ لجنہ اٹھائے گی یا جماعت ؟ اب یاد نہیں کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہوا تھا۔بہر حال پہلے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دن وائٹ بورڈ اور مار کر موجود تھا۔اس دن میرے ساتھ مکرمہ سلیمہ میر صاحبہ اور مکر مہ امتہ الحفیظ بھٹی صاحبہ ( صدر اور نائب صدر لجنہ کراچی) بھی از راه شفقت تشریف لائیں۔میری چھوٹی بیٹی امتہ الشافی بھی ساتھ تھی۔در ثمین اور اس کی پہلی نظم ایک چارٹ پر لکھی ہوئی لے کر گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ان دنوں در ثمین کی کتابت کروا رہی تھی اس لئے نظموں کے چارٹ بنانا آسان تھا۔گلوسری تیار کرنے کے لئے الفاظ پر تحقیق کر چکی تھی ، اس لئے یہ کام بھی تیار تھا۔سامنے برآمدے میں کھلنے والے دروازے سے ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے۔اسی برآمدے میں ایک طرف مکرم امیر صاحب کراچی کا دفتر تھا جہاں وہ کام میں 191