سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 358 of 418

سیلابِ رحمت — Page 358

ہونا چاہئے۔یہ تو نہیں کہ جس کسی نے درود شریف پڑھا وہ آنحضرت سائی تم کو جا پہنچا۔خاص کیفیات میں اُٹھتی ہوئی دعا ہی ہے جو رفعتوں کو پاتی ہے اور وہی ہے جو مقدر سنوارا کرتی ہے۔اس لئے جو ہی رہنے دیں۔وہی دعا بخت سنوار سکتی ہے جو اس تک پہنچنے کی سعادت پا جائے۔جو میں جو 66 انکسار ہے اس کا لطف 'جب میں نہیں۔“ ،، ( مکتوب 16 جنوری 1993 ء صفحہ 6) نظم ظہور خیرالانبیاء سے خاکسار کو بے حد پیار تھا۔نظم حضور کی ہے اضافے بھی آپ نے خود فرمائے لیکن بہت دور کھڑی میں اس بات سے لطف لیتی رہتی ہوں کہ ہو سکتا ہے اس تبدیلی میں خاکسار کی تحریک کا کوئی دخل ہو۔جب یہ نظم جلسہ سالانہ جرمنی 1993ء میں پڑھی گئی تو میں نے فون پرسنی اور نوٹ کی۔آپ نے درج ذیل اشعار کا اضافہ فرمایا تھا۔مکتوب میں تحریر ہے: کہیں کہیں مضمون کو مزید اجاگر کرنے کیلئے بعض اشعار کا اضافہ بھی کرنا پڑا ہے مثلاً ظہور خیر الانبیاء کے آخری بند کو تبدیل کرنے کے علاوہ ایک بند بڑھا بھی دیا ہے۔اب اس کی شکل یوں بن جائے گی : دل اس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اس کا اخلاص میں کامل تھا وہ عاشق تام اس کا مرزائے غلام احمد تھی جو بھی متاع جاں کر بیٹھا نثار اس پر ہو بیٹھا تمام اس کا 354