سیلابِ رحمت — Page 357
سیلاب رحمت انگشت پڑھا جاتا ہے۔میں آپ کو مصرع بتاتا ہوں : انگشت نمائی سے کچھ بات نہیں بنتی اس کو چاہئے ان گشت، پڑھیں یا انگشت، وزن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اسی طرح دندان ہے اس کو نہ دن دان اور نہ دں داں پڑھا جاتا ہے۔آپ کے اصرار نے مجھے انگشت بدنداں کر دیا ہے کہ آپ اندھیروں پر اندھیرے کو سویروں پر سویرے کے وزن پر پڑھنا چاہتی ہیں جب کہ میں اسے قندیلوں پر قندیلیں اور زنجیروں پر زنجیریں کے وزن پر پڑھتا ہوں نہ ”زن جیریں بعد میں آپ نے اس مصرع کو تبدیل فرما دیا: تحریر فرمایا: تاریکی پہ تاریکی گمراہی پر گمراہی آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی ( مکتوب 5 دسمبر 1993ء ) چوتھے بند کے پہلے شعر آیا وہ فنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی میں آپ نے 'جو' کو جب سے بدل دیا ہے۔سمجھ نہیں آئی کہ کیوں جب سے بدلا گیا ہے اصل میں جو اور جب میں ایک بہت لطیف فرق ہے جس کو وہی جان سکتا ہے جس نے جانکاہی سے معنوں کی تہ میں اتر کر الفاظ کا چناؤ کیا ہو۔۔۔۔جب اپنی دُعا پہنچی کا تو مطلب یہ ہے کہ بس ہماری دعا کی دیر تھی جیسے ہی پہنچی لگ گئی۔حالانکہ کلمہ طیبہ کیلئے یرفع العمل الصالح بھی 353