سیلابِ رحمت — Page 359
اس دور کا یہ ساقی گھر سے تو نہ کچھ لایا مئے خانہ اسی کا تھائے اس کی تھی جام اُس کا سازندہ تھا یہ اُس کے سب ساتھی تھے میت اس کے دھن اس کی تھی گیت اس کے لب اس کے پیام اس کا اک میں بھی تو ہوں یارب، صید تہ دام اس کا دل گا تا ہے گن اس کے لب جیتے ہیں نام اس کا آنکھوں کو بھی دکھلا دے، آنا لب بام اس کا کانوں میں بھی رس گھولے، ہر گام خرام اس کا خیرات ہو مجھ کو بھی، اک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پر، الہام کلام اس کا اس بام سے نور اترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اُٹھے خوشبو، ہو جائے سرود عنبر لذي ( مكتوب 16 جنوری 1993 صفحہ 4-5) شاعری جز ویست از پیغمبری اس سے زیادہ کہیں اور صادق نہیں آتا۔کچھ ترامیم و اضافے کے بعد اس نظم کا حسن دوبالا ہو گیا۔میں نے نظم سن کر اپنے تاثرات لکھے۔میں نے تو کیا لکھا ہوگا ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مگر آپ کا جواب آپ کے حسن واحسان کا مرقع ہے: ” آپ کی طرف سے لجنہ امریکہ سے خطاب کا اردو ترجمہ اور میرے کلام کا کتابت شدہ مسودہ موصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔355