سیلابِ رحمت — Page 279
رحمت کہ ماشاء اللہ اردو زبان سے آپ خوب واقف ہیں۔اور نہ صرف اس کا استعمال جانتی ہیں بلکہ زبان بھی رکھتی ہیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔“ (12 نومبر 1998ء) پیارے حضور کی نگاہ کرم کے دائروں کی وسعت دیکھئے۔کراچی سے پندرہ روزہ اے المصلح نکلتا ہے۔کبھی کبھی خاکسار کی تحریر کو بھی جگہ مل جاتی ہے۔نوک جھونک کے نام سے ایک کالم شروع کیا جس پر نام کی بجائے صرف اب ن لکھا۔حضور نے پہچان لیا اور بہت پیار سے داد دی۔تحریر فرمایا: پندرہ روزہ «المصلح کراچی کا جو رسالہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔یہ یکم تا 15 اپریل 2001 ء کا شمارہ ہے اور اس میں اچھے اچھے مضامین ہیں لیکن اس رسالے کی جان آپ کے مضامین میں ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔۔۔جہاں ا۔ب۔ن آجائے وہاں فصاحت و بلاغت کے در کھل جاتے ہیں۔جزاكم الله احسن الجزاء في الدينا والاخرة پیارے حضور کی طرف سے نہ صرف آپ کی زندگی میں داد ملتی رہی بلکہ آپ کے دوسری دنیا میں جانے کے بعد آپ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک پیغام ملا جو خاکسار کے لئے ایک نعمت ہے ایک اعزاز ہے۔آپ کی وفات حسرت آیات کو چند دن ہی گزرے تھے تازہ تازہ صدمہ، بے انتہا کرب انگیز دن تھے۔ایسے میں لندن سے ایک فون ملا۔آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کا ایک پیغام دینا ہے۔حضور کے لفظ اور پھر ان کی طرف سے پیغام کا سن کر پورا وجود رود یا۔میرے حضور نے یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں مضمون الہام کلام اس کا بہت پسند آیا ہے اور وہ ہدایت کرتے ہیں کہ جب بھی کلام طاہر شائع ہو تو یہ مضمون اس میں شامل ہو۔یہی 277