سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 278 of 418

سیلابِ رحمت — Page 278

رحمت ڈش لگ جائے۔چنانچہ ۲ فروری ۱۹۹۴ء کو ہمارے گھر کی چھت پر ڈش لگ گئی۔جب سیٹنگ مکمل ہو کر ٹی وی لگایا تو پیارے حضور کا پروگرام آ رہا تھا اس خوشی کے وقت آپ کو خط لکھنے بیٹھی تو فروری کے پر بہار موسم کی بھی لفظوں سے کچھ تصویر بنادی۔پیارے آقا نے خوب داد دی، مزا ہی آگیا۔تحریر فرمایا: آپ کے خطوط ملے۔الحمد للہ کہ بالآخر آپ کے گھر کی چھت بھی ڈش سے مزین ہو گئی ہے۔اللہ آپ کو اور آپ کے سب ملنے والوں کو اس سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آپ نے صحن میں لگے پودوں اور درختوں کے ذکر کے ساتھ اپنے گھر کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں تو کمال ہی کر دیا ہے۔آپ کی نثر بعض دفعہ آپ کے شعروں پر غالب آجاتی ہے۔کیونکہ شعر کی پابندیاں بعض اوقات آپ کے دل کے ہر ولولے اور ہر مقصد کو اصل شان سے بیان کرنے میں روک ہو جاتی ہیں۔جبکہ نثر میں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ اور عبور بخشا ہے کہ آپ فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتی چلی جاتی ہیں چنانچہ آپ کے صحن اور باغ کا نقشہ پڑھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے میں نے آپ کا گھر صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کے صحن میں بیٹھ کر کچھ وقت گزار آیا ہوں۔اللہ آپ کے قلم میں مزید روانی اور جاذبیت پیدا فرمائے۔“ اردو کلاس کی افایت پر کچھ ٹوٹا پھوٹا لکھا ہوگا۔آپ نے بہت سراہا: اردو کلاس کے حوالے سے آپ کا تبصرہ پڑھ کر بہت محظوظ ہوا ہوں کہ زبان رکھتی تو کتنی نازاں ہوتی۔بہت عمدہ فقرہ لکھا ہے اس سے تو لگتا ہے 276