سیلابِ رحمت — Page 276
رحمت بات کا برانہیں مانا تھا، بلکہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔میں حضور کی خدمت میں دل کی ہر بات لکھ دیتی۔جس طرح اللہ تعالیٰ سے ہم سجدے میں دل کی ہر بات سادگی سے کہہ جاتے ہیں۔حضور کو بھی لکھ سکتے ہیں۔آپ کی نظر الفاظ کے پیچھے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے۔خطوط پر حوصلہ افزائی کا طریق ملاحظہ فرمائیے۔اپنی حمد و شکر اور خوشی کا عالم آپ کی چشم تصور پر چھوڑتی ہوں۔چند اقتباس پیش ہیں: " آپ کا خط آپ ہی کے مصرع صبح کی تازہ دم ہوا کی طرح آیا ما شاء اللہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ کراچی کو بہت خدمت کی توفیق بخشی ہے۔خاص طور پر شعبہ اشاعت تو بہت دلجمعی اور مضبوط قدموں سے آگے بڑھ رہا ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔۔۔۔آپ کے چند اور دلچسپ خطوط بھی میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔شاید ان کا جواب نہیں دیا جا سکا۔ان پر ایک نظر ڈالوں گا تو پھر جواب دوں گا۔آپ کے خط کے ساتھ منسلک وہ تمام پیار بھرے الفاظ پڑھنے کا موقع ملا جو سید نا حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کئے ہیں۔بہت لطیف اور گہرے مضامین کا ایک سمندر ہے۔آپ کو خوب خیال آیا۔ماشاء اللہ آپ کی ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کو اور بھی زیادہ روشن فرمائے۔خدا حافظ۔“ ( 21 جنوری 1991 ) وو " آپ نے المحراب کی اشاعت کے سلسلہ میں سب خدمت کرنے والی ساتھنوں اور ساتھیوں کا بہت اچھے انداز میں نہ صرف انفرادی تعارف کروایا ہے بلکہ حسن کارکردگی کی حقیقت کے دائرے 274