سیلابِ رحمت — Page 275
سیلار رحمت فون آیا۔آپ نے از راہ شفقت بہت تعریف فرمائی: ”المحراب والا مضمون پڑھ کر ایسا لگا سارے منظر زندہ ہوگئے ہیں بلکہ زندہ ہوکر سامنے بیٹھ گئے ہوں۔واقعی بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔“ قیمتی مضمون بلکه حرف آخر یا درفتگاں کے باب میں قیمتی مضمون بلکہ حرف آخر کی سند خاکسار کو اپنی رفیقہ کار پیاری حور جہاں بشری داؤد کی یاد میں لکھے ہوئے مضمون پر ملی۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے حق میں حضور کی سب دُعائیں قبول فرمائے۔آمین۔" عزیزہ حوری کے متعلق آپ کا جو مضمون 26 ستمبر کے الفضل میں شائع ہوا وہ یادرفتگان کے باب میں ایک قیمتی مضمون ہے۔یوں لگتا ہے دل کے احساسات از خود فقروں میں ڈھلتے چلے گئے ہیں اور جانے والی ہستی کا ایک پیارا دلکش خاکہ قارئین کی دعائیں جذب کرنے کیلئے صفحات پر ابھارتے چلے گئے ہیں۔مضمون بہت عمدہ ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء (10 نومبر 1993 ) پیاری بشری داؤد کی وفات کے صدمے میں حضور کو جو خط لکھا اُس کا جواب کسی اعلیٰ درجے کے ادبی شہ پارے سے بھی بلند ہے اور ذرہ نوازی دیکھئے میرے خط کے مضمون کو اس مضمون پر حرف آخر قرار دیتے ہیں۔میں اس پر اپنے اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر کر سکوں کم ہے۔خطوط پر حضور کی پسندیدگی بھی کئی دفعہ حاصل ہوئی۔پہلے میں بہت ڈرا کرتی تھی۔بلکہ ہمیشہ ہی اس بات کا ڈر رہتا کہ خلاف ادب کوئی بات نہ لکھ جاؤں۔پیارے حضور نے کبھی کسی 273