سیلابِ رحمت — Page 277
سیلاب رحمت میں رہتے ہوئے بہت عمدہ تعریف کی۔خوب احسان کی احسان سے جزادی۔فجزاکم اللہ احسن الجزاء۔وجزاھم اللہ احسن الجزاء 66 (12 دسمبر 1991 ) " آپ نے بڑی انکساری سے کام لیا یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انکساری کی بجائے حق گوئی سے کام لیا ہے۔جب آپ نے یہ لکھا کہ ایسی نثر لکھ گئے ہیں جس کی تعریف اور توصیف کیلئے آپ سے بڑھ کر علم چاہئے۔اور پھر یہ لکھنے کے بعد جب آپ نے تعریف اور توصیف کا خوب خوب حق ادا کیا ہے تو پڑھ کر معلوم ہوا کہ آپ کا یہ بہتر علم والا تبصرہ تو خود آپ پر صادق آرہا ہے۔پس اگر چہ تمام خط خلوص انکسار لئے ہوئے ہے اور اس فقرے کا مقصد بھی اپنی عاجزی کا اظہار ہی ہے لیکن میں اسے اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ گویا یہ اظہار حق ہے۔اور آپ کو پتہ ہی نہیں لگا کہ خود آپ کی ذات پر صادق آ رہا ہے۔“ (6 مئی 1993ء) آپ کا پرخلوص اور آپ کی چاشنی سے بھر پور خط موصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام خدمات اور پر خلوص جذبات کو قبول فرمائے اور ذہنی وقلبی صلاحیتوں کو مزید صیقل فرمائے ، اور ان سے بھر پور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔خدمات دینیہ کے مقامِ محمود عطا فرمائے۔اپنی برکتوں نعمتوں اور رحمتوں سے وافر حصہ عطا 66 فرمائے۔خدا حافظ و ناصر۔“ 6 مئی 1993ء) ایم ٹی اے شروع ہوا تو ہر احمدی کی طرح خاکسار کی بھی خواہش تھی کہ جلدی سے جلدی 275