سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 242 of 418

سیلابِ رحمت — Page 242

سیلاب رحمت چھ سال پہلے میں 29 اور 30 اپریل کی درمیانی رات کو کراچی سے روانہ ہوا تھا اس وقت تو آپ کو سوتا چھوڑ کر آیا تھا۔یہ خبر نہ تھی کہ روتا چھوڑ کر جارہا ہوں اب اللہ جلد تر مجھے آپ سب کو ہنستا ہوا دکھائے تو اپنے آنسو ہمیشہ کے لئے جذبات تشکر کی نذر کر دوں۔آپ کا 90-03-15 کا خط ملا جس میں یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ اپنا منظوم ہدیہ تشکر طبع کروانے کی تیاری کر رہی ہیں۔” نمی کا عکس عنوان بھی آپ نے خوب چنا ہے۔اس کے بعد آنے والے مجموعہء کلام کا عنوان تعجب نہیں کہ سیلاب رحمت ہو۔ما شاء اللہ آپ کے کلام میں رفتہ رفتہ ایک نئی جلا پیدا ہوتی جارہی ہے۔شاذ کے طور پر کہیں کہیں خیال پیدا ہوتا تھا کہ اصلاح کی گنجائش موجود ہے لیکن کوئی نظم یا غزل بھی بے اثر نہیں دیکھی۔بعض اشعار تو یوں اُٹھتے اور بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ نگاہوں کے قدم روک لیتے ہیں زبانِ حال سے یہ کہتے ہوئے ہمیں سرسری نظر سے دیکھ کر اپنی قدر شناسی کو پامال کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔احمدی شعراء کو اللہ تعالیٰ نے سچائی کی تاجوری بخشی ہے اور سچائی ہی اُن کے کلام کو ایک امتیازی حسن بخشتی ہے۔آپ کا کلام بھی اس منبعِ حُسن سے بہرہ ور ہے۔اس کے علاوہ بھی آپ کے کلام میں کچھ خوبیاں ہیں جو اسے انفرادی رفعت عطا کرتی ہیں۔قافیہ کے استعمال میں اچانک ایسا تنوع جو یکسانیت کو اس طرح توڑتا ہے کہ موسیقی پیدا ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بھی بہت سے اشعار دل پر براہِ راست بے ساختہ اثر کرتے ہیں۔یہ تو کوئی صاحب فن ہی آپ کو بتا سکتا ہے کہ 240