سیلابِ رحمت — Page 241
فقط اس سے توقع ہے مہربانی کی رکھنی کلجے کی سجدے میں سب بتائی ہے نجیب عجز میں کرنا ہے رفعتوں کا حصول که ترکشی کبھی بند نے کی خوش نہ آئی آنے جو اس کی یاد میں مچلتے نہیں گوہر نایاب پسند آتی ہے اشکوں کی پارسائی آئے تینوں شعروں میں یہ قدر مشترک دکھائی دیتی ہے کہ دوسرے مصرعے پہلے نازل ہوئے تو ان کی تنصیب کے لئے پہلے مصرعے بعد تین بنائے گئے بالله آپکا حامی و ناصر ہو۔خدمت دین کی توفیق بڑھانے اور پہلے سے بڑھ کر سلیقہ علماء کرے۔علم و عمل دونوں کوئی جلا بخشے انہ آپکے اشکوں کی پارسائی اند دل کی عاجزی اُسے خوش آ جائے خدا حافظ! در سلام فارکس به انا کل یہ 239