سیلابِ رحمت — Page 224
سیلاب رحمت آپ کے خط سے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ میرا کراچی کا سفر بے کار نہیں گیا اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے میری حقیر کوششوں میں برکت ڈالی اور اخلاص کے وہ میٹھے پھل لگائے جن کی خوشبو اور لذت آپ کی تحریر کے بھی فقرے فقرے سے پھوٹ رہی ہے۔الحمد للہ کہ آپ کے بچوں نے بھی اس سفر سے استفادہ کیا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو کامیاب و کامران خوشیوں سے معمور خدمتِ دین سے مہکتی ہوئی زندگی عطا فرمائے۔اور دنیا و آخرت کی حسنات سے نوازے۔خدا حافظ۔“ ( مكتوب: 1983-3-22) حضور رحمہ اللہ کی کراچی آمد کی خوشی میں ایک نظم ہوگئی تھی جو بغرضِ دعا حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔ایک شعر تھا خوش ہیں احمد کے فدائی کہ حضور آئے ہیں حمد باری میں مگن پیکر نور آئے ہیں پیارے حضور نے از راہ شفقت یہ نظم پسند فرمائی اور دعاؤں سے نوازا : آپ کی نظم بعنوان مجلس عرفان کا تاثر پڑھی۔آپ کے پر خلوص جذبات اور نیک توقعات پر تہ دل سے ممنون ہوں۔ماشاء اللہ آپ خوب لکھتی ہیں۔مجھے خیال نہیں تھا کہ آپ کو فصاحت اور بلاغت میں اتنا کمال حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے اور خدمت دین کے لئے استعمال کرنے کی توفیق بخشے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازے۔“ ( مكتوب 1983-3-7) 222