سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 225 of 418

سیلابِ رحمت — Page 225

سیلاب رحمت صلاحیتوں کی چلا اور خدمت دین کے لئے استعمال کرنے کی توفیق کی دعانے خاکسار کو سلطان قلم کی فوج میں شامل ہو کر عاجزانہ خدمات کی راہوں پر ڈال دیا یہ آپ کی دعاؤں کا اعجاز ہے نہ جانے مجھ جیسے کتنے فقیروں کا ہاتھ پکڑ کر تو نگر بناڈالا۔الحمد للہ علی ذالک۔پھر حالات نے ایسا درد ناک رخ بدلا کہ حضور پرنور کو وطن سے ہجرت کرنی پڑی۔الہی جماعتوں میں پیرومرید یک جان و دو قالب ہوتے ہیں۔اس جدائی سے دونوں طرف ایسی تڑپ تھی کہ کوئی سمجھ نہیں سکتا تھا کون پیا ہے کون پر یمی۔ایسے میں آپ کے خطبات وخطابات جو کیسٹس کے توسط سے ہم تک پہنچتے ، دل ہلا دیتے۔ایک خطاب میں آپ نے فرمایا: مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله - میرا دل پکارا حاضر ہیں دل و جان سے اے قافلہ سالار! خواہش ہے کہ جاں دین پہ صدقے کریں سو بار اور ظلم کے بت اپنی دعاؤں سے گرا دیں ہم داعی الی اللہ نہیں بے کس و لاچار حالات بہت اچھے ہیں اور حوصلے قائم یہ نظم مصباح میں چھپی۔پیارے حضور کی نظروں میں آگئی۔آپ نے حوصلہ افزائی فرمائی۔دلداری کے یہ دلفریب انداز حضور کے ساتھ مخصوص ہیں۔تحریر فرمایا: ابھی چند روز ہوئے مباح ہیں آپ کی ایک نظیم رکھیں۔جو آنکھوں سے سیدھی دل میں اترتی چلی گئی اور میں آپ کے لئے دعاء کرتا رہا والسلام فالسار از انار خليف مسیح الرابع 223