سیلابِ رحمت — Page 209
ب رحمت السلام کو خوشخبریاں دی گئی تھیں کہ مختلف رنگ، نسل اور قوموں کے لوگ جمع ہوں گے۔ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔اس کا نقشہ نظر آرہا تھا۔ہم گواہ ہیں کہ ہم یہ پیشگوئیاں اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں۔یہ سب نعمتیں ہمیں اپنے آقاو مولی محمد رسول اللہ صلی یا ایم کی اتباع سے ملیں ؎ سب جہانوں کیلئے بن کے جو رحمت آیا ہر زمانے کے دکھوں کا ہے مداوا وہی ایک اُس کے دامن سے ہے وابستہ کل عالم کی نجات بے سہاروں کا ہے اب ملجاء ماوی وہی ایک نصرت ہال میں منگل کے منگل ”ڈاک والیوں سے ملاقات ہوتی رہی۔حضور کی ڈاک کا نظام بھی رُوئے زمین پر منفرد ہے۔پچھلے زمانے کے انصاف پسند بادشاہوں کے متعلق پڑھتے تھے کہ راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھوم پھر کر عوام کے مسائل بچشم خود دیکھا کرتے تھے۔پوری دنیا میں پھیلی جماعت کے عادل امام نے خطوں کے ذریعہ ہر گلی محلے میں بسنے والوں سے رابطہ رکھا ہوا ہے۔خط میں جس طرح دل کھول کر رکھ دیا جاتا ہے زبانی بھی ممکن نہیں۔آپ خطوط ضرور دیکھتے ہیں۔بعض سارے اور بعض کے خلاصے۔یہ خلاصے تیار کرنے کا کام کچھ خواتین کے ذمے ہے۔دل تو چاہا کہ ان کے راز داری کے عہد کو مجروح کر کے دیکھوں تو میرے آقا کو سب کیا کیا لکھتے ہیں۔مگر حوصلہ نہیں ہوا۔مجھے علم ہے جہاں کوئی پریشانی کوئی جھگڑا کوئی دل آزاری، بیماری ، دکھ کا واقعہ کوئی اندوہ ناک وفات ہو سب اپنے دل کا سارا دکھڑ ا حضور پرنور کے شفیق دل میں اُنڈیل دیتے ہیں۔اور پھر پر اسرار دھندلکوں میں سموئے ہوئے غم ، فضاؤں میں سسکتے ہوئے احساس الم اُن کی روح پر جذ بہ مہم بن کر چھا 207