سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 208 of 418

سیلابِ رحمت — Page 208

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے ساقی براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی بالآخر میری باری بھی آگئی۔دست مبارک بڑھا کر آئس کریم عنایت فرمائی۔بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے اس دن کچھ لطیفے بھی ہوئے۔موٹے بچے سے پوچھا: 66 گھڑی کس طرح چلتی ہے۔“ بڑے اعتماد سے جواب دیا: Anti Clockwise مکرم عبد الہادی صاحب کو صفائی کی سوجھی۔ایک بیگ لے کر ڈھکنے جمع کرنے شروع کر دیئے۔حضور نے فرمایا: ”ان میں تو آئس کریم بہت کم لگی ہوئی ہے۔“ کلاس کا ہر پہلو خوشگوار تھا۔جمعوں کے خطبوں، جلسوں کے خطابات ، مجالس عرفان اور ترجمۃ القرآن کی کلاسز میں ٹھوس علمی و مذہبی موضوعات پر سنجیدگی سے قرآن وحدیث ، سیرۃ نبوی اور سلسلہ احمدیہ کے علم الکلام کی روشنی میں بے تکان با دلائل گفتگو کرتے ہوئے آقا کا اردو کلاس میں ایک اور روپ نظر آتا ہے۔کبھی سموسے بیلتے ہوئے میدے سے سنے ہوئے ہاتھ ، کبھی الو سلامت کی کہانی کبھی موٹے چھوٹے بچوں کی باتوں پر قہقہے۔لگتا ہے اللہ پاک نے خود اپنے بندے کی تفریح کا سامان کیا ہے۔اردو کلاس کے بعد پھر نماز کیلئے نصرت ہال میں جمع ہوئے۔یہاں ایک اور ایمان افروز نظارہ تھا۔کچھ خواتین دائرے میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ایک کا تعلق چین سے تھا۔ایک ٹرکش ایک بوسنین ایک افریقن ، کچھ لندن کی اور خاکسار پاکستان کی۔مگر اپنائیت ایسی گویا ایک جان ہوں۔یہ ملتِ واحدہ کی تشکیل کی ایک تصویر تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ 206