سیلابِ رحمت — Page 210
سیلاب رحمت جاتے ہیں۔آنکھیں اشکوں کی راہ گزار بن جاتی ہیں اور دل مہمان سرائے غم وحزن۔آپ کے سینے میں جوان مرگ اُمنگوں کے اتنے مزار ہیں کہ وہ غم وحزن کے سینکڑوں قافلوں کی زیارت گاہ بن سکتا ہے۔کسی کے دھیان کی جو گن سارے رنج و آزار کے ساتھ خود ہی پہلو میں آجاتی ہے اور رات بھر احساس کے دکھتے ہوئے تار چھیڑتی ہے۔ایک ایک تار سے غم وحزن کی صدا اُٹھتی ہے۔دل ایسے جلتا ہے جیسے دور بیابانوں میں کسی راہب کا چراغ ٹمٹما رہا ہو۔درد کے قافلے ویرانوں میں لرزتی ہوئی لو کو دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہی ہماری منزل ہے۔دو گھڑی قلب کے غم خانے میں ستا کے تیرگی یاس کی اوٹ سے نکل کر اُمید کی کرن دیکھ کر چلے جائیں گے۔کسی اور کا کہاں حوصلہ ہوسکتا ہے کہ اُن میں جھانکے خطوں کے ذریعے انسانیت کی اتنی بڑی خدمت ہو رہی ہے جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔پھر یہ خط لکھنے والے صرف احمدی احباب نہیں ہوتے ہر مذہب وملت رنگ ونسل کے لوگوں کو علم ہے کہ یہاں ایک درد آشنا دل ہے جو یہ سجھتا ہے کہ غم سے سسکتی ہوئی روحوں کا کوئی الگ مذہب اور رنگ نہیں ہوتا۔ہر ستم دیدہ انسان انسان ہی ہوتا ہے۔کوئی قشقہ ہے دکھوں کا نہ عمامہ نہ صلیب کوئی ہندو ہے نہ مسلم ہے نہ عیسائی ہے ہر ستم گر کو ہو اے کاش یہ عرفان نصیب ظلم جس پر بھی ہو ہر دین کی رسوائی ہے حضور کی ڈاک میں مدد دینے والے بڑے خوش نصیب ہیں۔مجھے بھی حضور کے قریب رہنے کا موقع ملتا تو اسی شعبے سے منسلک ہو کر کام کرتی۔اللہ پاک سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔208