سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 201 of 418

سیلابِ رحمت — Page 201

رحمت ”اُمید ہے آپ کا سفر خوشگوار رہا ہوگا۔“ ایئر ہوسٹس نے شاید میرا چہرہ پڑھ کر یہ جملہ کہا تھا۔بین الاقوامی پرواز پر یہ میرا پہلا سفر تھا۔اس لئے بہت سے کام دائیں بائیں والوں کو کن اکھیوں سے دیکھ دیکھ کر کرتی رہی۔ایئر پورٹ پر ہمیں لینے میرا داماد عمر آیا ہوا تھا۔یہ بھی میری بیٹی امتہ الصبور کی طرح سماعت و گویائی سے محروم ہے۔گاڑی مہارت سے چلا لیتا ہے۔ایئر پورٹ سے ساؤتھ فیلڈ تک کہیں بھی سڑک ٹوٹی ہوئی نہیں تھی۔حیرت ہو رہی تھی۔بارشیں تو یہاں بہت ہوتی ہیں پھر سڑکیں کیسے سلامت ہیں۔کراچی کی سڑکیں تو بارش سے یوں پگھلتی ہیں جیسے تیز اب برسا ہو۔زاہد اور مصور میری اس حیرت پر خوب ہنسے۔جیسے کہہ رہے ہوں۔ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے؟ کراچی کی صبح سے ۱۴ مارچ کی لندن کی صبح بہت مختلف تھی۔وہاں گرما گرمی اور یہاں سردی اور سکون تھا۔کیوں نہ ہوتا آب وگل کے اس جہان میں یہی تو وہ پرسکون گوشتہ تھا، جہاں مولا کریم نے اپنے پیارے کو لا کر بسایا تھا۔میری خوش قسمتی کہ اگلے ہی دن ملاقات کا وقت مل گیا۔کوئی دوسرا اندازہ نہیں کر سکتا کہ دل کی دنیا کا کیا عالم تھا۔مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ چند منٹ کی خوشی کے بعد بہت گھبراہٹ شروع ہوگئی۔مجھے لگا کہ حضور کے سامنے جاؤں گی تو انہیں میرے آر پار سارا نکما پن نظر آ جائے گا۔سامنے کیسے جاؤں گی۔دل میں کئی مسودے ترتیب پانے لگے تاہم یہ بھی لگتا تھا کہ کچھ بھی کہ نہ پاؤں گی۔سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہو بیٹھا ہے بت آئینہ سیما میرے آگے ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ 15 مارچ کو حضور انور کی محمود ہال میں اردو میں ایک مجلس 199