سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 202 of 418

سیلابِ رحمت — Page 202

عرفان تھی۔سوچا کیوں نہ پہلے اس مجلس میں جاکر آنکھوں کو آفتاب دیکھنے کی کچھ مشق کرالوں۔مصور اور بھتیجی مدثر کے ساتھ پیدل ہی مسجد کی طرف چل پڑی۔سڑک پر گرین ہال لکھا نظر آیا۔پہلے لفافوں پر لکھتی تھی آج خود پہنچ گئی۔محمود ہال میں عین سامنے سٹیج پر حضور انور نظر آئے۔سوال جواب کا سلسلہ جاری تھا۔خدا کا شیر علم وعرفان سے مسلح چو کبھی لڑائی لڑ رہا تھا۔احباب نہ جانے کتنی اُلجھنوں کو سلجھانا چاہتے تھے۔سوال پر سوال آرہے تھے اور وہاں ہزار دام سے مسکرا کر نکلنے کا دلفریب انداز۔کوئی تامل، غور و فکر ، ذہن پر زور دینے کا انداز نہیں تھا۔ہر سوال کا جواب اس کمپیوٹرائزڈ انسائیکلو پیڈیا سے بچے تلے الفاظ میں آجاتا۔موضوع پر مکمل عبور اور زبان و بیان کوثر تسنیم سے دھلی ہوئی۔ہماری خوش نصیبی کہ اسی دن بیعت بھی ہوئی۔پھر نماز مغرب کے لئے نصرت ہال میں جمع ہوئے۔اس سے پہلے 1984 ء کے اوائل میں اپنے امام کی امامت میں نماز ادا کی تھی۔نماز کے معابعد ملاقات کیلئے کمرہ انتظار میں بیٹھ گئے۔گر دو پیش کا ماحول نظروں سے اوجھل ہور ہا تھا۔ساتھیوں کے مشورے کہیں اوپر سے گزر رہے تھے۔ایک گھبراہٹ سی طاری تھی۔ایک دفعہ ایک شعر کہا تھا: حوصلہ ہوگا تو کر لیں گے نگاہوں سے سلام باقی سب گفتگو اشکوں کی زبانی ہوگی میرے پاس در ثمین اردو مع فرہنگ کی ڈمی تھی اور لجنہ کی کچھ کتا ہیں۔ایک کیمرہ بھی۔داخلے کی اجازت ملی۔وہ لمحہ میرا تھا۔اس روشن چہرے کی مسکراہٹ میرے لئے تھی۔پیارے حضور اس سے زیادہ ہشاش بشاش اور پر نور نظر آئے جو کیمرے کی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔عجیب دلفریب ذرہ نوازی تھی۔آپ نے فرمایا: ( الفاظ میرے ہیں) کون کہتا ہے آپ پہلی دفعہ آئی ہیں۔آپ تو یہیں ہوتی ہیں 200