سیلابِ رحمت — Page 11
سیلاب رحمت لمبے لمبے نوٹ رقم فرما دیا کرتے تھے اور پھر یہ بھی یاد آیا کہ کس طرح حضور رحمہ اللہ نے انہیں اپنے کلام طاہر پر یہ کہتے ہوئے طبع آزمائی اور تبصرہ کرنے اور مشورہ دینے کی اجازت عطا فرمائی کہ: تومشق نازکر، خونِ دو عالم مری گردن پر اور پھر انہوں نے بھی خوب دل کھول کر حضور رحمہ اللہ کے مختلف اشعار پر اپنے مشورے دیئے اور جنہیں بعض اوقات حضور نے قبول فرمایا اور اکثر دفعہ ان کے مشورہ کے نتیجہ میں حضور کے شعر کے مفہوم میں جو تبدیلی آرہی ہوتی ، حضور رحمہ اللہ اس کو پوری شرح و بسط سے دلیل کے ساتھ انہیں سمجھا کر اپنے دل کی بات بیان فرما دیتے کہ میرے نزدیک تو اس شعر کا مطلب یہ ہے اور آپ کے مشورہ کو ماننے سے میرا یہ منشاء اور مدعا پورا نہیں ہوتا۔اس لئے آپ کی تجویز قبول نہیں کر سکتا۔بہر حال محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ اس ساری مشق کے دوران حضور کی تحریر کے وہ ادب پارے حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوگئیں جو اگر یہ ہمت نہ کرتیں تو شاید جماعت کے ادبی حلقوں تک وہ کبھی بھی نہ پہنچ پاتے۔اس لحاظ سے تو یہ ہماری دعاؤں کی بھی مستحق ہیں۔فجز اھا اللہ احسن الجزاء۔بہر حال اب میں ان کی زیر نظر کتاب کے مختلف موضوعات کی طرف آتا ہوں لیکن اس سے پہلے یہ بھی عرض کر دوں کہ حضرت اصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ : وہی قوم ترقی کرسکتی ہے جس کی ساری عورتوں کا دینی معیار بلند ہو۔وہ جواں ہمت اور حوصلہ مند ہوں۔وہ مصائب و مشکلات کی پرواہ کرنے والی نہ ہوں۔وہ دین کے لئے ہر قسم کی قربانی پر تیار رہنے والی ہوں۔وہ جرات اور بہادری کی پیکر ہوں اور وہ اپنے اخلاص 11