سیلابِ رحمت — Page 10
عنایات الہی ہوں مبارک ( از محترم منیر احمد جاوید صاحب) محترمہ امۃ الباری صاحبہ نے مجھ سے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں ان کی کتاب کے لئے کچھ لکھوں۔میں نے بہت سوچا کہ اس کے لئے انہوں نے مجھے ہی کیوں کہا۔میں تو ان کی طرح شاعر ہوں نہ ادیب، تو پھر کس طرح ان کی کتاب کے لئے ایک پیش لفظ لکھنے کا حق ادا کر سکتا ہوں۔مزید غور وفکر کے بعد عقدہ یوں کھلا کہ مجھ سے ان کی یا ان سے میری جان پہچان کا واحد سبب چونکہ صرف اور صرف حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ذات تھی کیونکہ ان کی شاعری پر حضور رحمہ اللہ جو برجستہ اور بے لاگ تبصرے فرماتے اور ان کے پرخلوص خطوں کے جو بڑے وجد آفریں جواب لکھواتے وہ اکثر مجھ سے ہی لکھوا کر انہیں بھجواتے تھے اس لئے شاید انہوں نے مجھ سے کچھ لکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور یہ اگر چہ میرے بس کی بات تو نہیں لیکن میں نے سوچا کہ اگر انہیں کی کتاب کے مختلف ابواب اور ان کی مختلف تحریرات کو سامنے رکھ کر میں کچھ لکھ کر ان کی خواہش پوری کر دوں تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں کہ اس طرح مجھے بھی حضور رحمہ اللہ کی محبتوں اور شفقتوں اور احسانات و عنایات کو یاد کرنے کا موقع مل جائے گا۔چنانچہ ایک ایک کر کے وہ سارا زمانہ نظر کے سامنے پھرنے لگا اور یادوں کے جھرو کے کھلتے چلے گئے۔یہ بھی یاد آیا کہ ان کے خطوط کا حضور رحمہ اللہ ہمیشہ بڑے پیار اور توجہ سے جواب لکھوایا کرتے تھے اور کئی دفعہ ان کے خطوط پر، پڑھتے ہوئے ہی بے اختیار 10