سیلابِ رحمت — Page 372
سیلاب رحمت غالباً یہ آخری بہتر ہے مگر تینوں میں سے جو آپ پسند کر لیں۔اس معاملہ میں آپ کی پسند پر اعتماد کرتا ہوں۔اگر تینوں ہی دل کو نہ لگیں تو مجھے ایک اور موقع دیں۔(مکتوب 5 دسمبر 1993ء) کیا موج تھی جب دل نے جے نام خدا کے“ اسی نظم کے ایک شعرے میں ان سے جدا ہوں مجھے چین آئے تو کیوں آئے دل منتظر اس دن کا کہ ناچے انہیں پاکے اس کے پہلے مصرع پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔پہلے تو ایسی جسارتوں پر بہت نادم ہوتی تھی۔مگر اب اس کے نتیجے میں خاکسار کو سمجھانے کیلئے جو شعر میں زبان و بیان کے متعلق علم کے دریا بہائے ہیں مجھے نازاں کر رہے ہیں۔جو بھی پڑھے گا اس کا عالم مجھ سے مختلف نہیں ہوگا۔ایسا لگتا ہے ساری عمر صرف ادب کا مطالعہ فرمایا ہے۔تحریر ملاحظہ ہو: میں ان سے جدا ہوں، مجھے چین آئے تو کیوں آئے اس مصرع کے بارے میں آپ نے ترتیب بدلنے یا کیوں آئے، کی جگہ کوئی دوسرا لفظ لانے کی تجویز پیش کی ہے۔لیکن مجھے آپ کے اصرار کی سمجھ نہیں آئی کہ کیوں ترتیب بدلی جائے۔اسے اہل کلام جب پڑھتے ہیں تو آئے دو آوازیں نہیں نکلتیں بلکہ دونوں آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔جس طرح غالب کے مرثیہ میں ہائے ہائے میں آخری ے کی آواز نمایاں نہیں ہے۔آئے اور ہائے کی آواز کبھی Soft پڑھی جاتی ہے اور کبھی دے کر کے الگ پڑھی جاتی ہے۔جب 368