سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 373 of 418

سیلابِ رحمت — Page 373

سیلاب رحمت Soft پڑھی جاتی ہے تو عملاً یہ اتنی خفیف ہو جاتی ہے کہ زبان پر بوجھ نہیں پڑتا اور اہل کلام اس کو نا گوار خاطر نہیں سمجھتے۔مکرم سلیم صاحب کا غالباً یہ بھی اعتراض ہے کہ کیوں آ پر وزن کا دم ٹوٹ جاتا ہے۔ان کو بتادیں کہ یہ آ اور ائے نہیں یعنی دئے پر الگ زور نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ سلیم صاحب کو جس طرح آتش کے اس مصرع میں آئے استعمال ہوا ہے صرف اسی طرح آئے کہنے کی عادت ہے اور و Soft ' آئے پڑھ ہی نہیں سکتے۔آتش کا پورا شعر یوں ہے: بجا کہتے آئے ہیں بیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم سے مضمون نہ نکلا اب یہاں آئے پڑھنا پڑتا ہے اگر آئے Soft پڑھیں گے تو وزن ٹوٹ جائے گا۔اس کے مقابل پر غالب کی نظم میں Soft پڑھنے کی مثال موجود ہے۔اس کی 'ہائے ہائے والی نظم میں آخری ہائے کو Soft پڑھتے ہیں اور لمبا کر کے بارے نہیں پڑھتے بلکہ ہارے ہاء پر ہی بات ختم ہو جاتی ہے۔غالب کہتا ہے: درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے اگر دوسرے ہائے کو بھی ہا ائے پڑھیں تو اس میں ائے کی آواز زائد ہے۔اصل میں ہائے ہا ہونا چاہئے تھا۔اس کی یہ ساری نظم اسی طرح چلتی ہے۔پھر غالب کہتا ہے۔369