سیلابِ رحمت — Page 344
دلداری سیلاب رحمت بُرا نہ منائیں۔رسمی جواب ایسے ہی ہوتے ہیں۔دستخط کرتے وقت حسرت سے دیکھتا رہ جاتا ہوں کہ جن بے چاروں کو یہ جواب ملیں گے ان کی پیاس کیسے بجھے گی۔وہ جو اتنے پیار سے اتنی محنت سے خط لکھتے ہیں ایسے رسمی جواب ان پر کتنا ظلم ہے مگر میں کر کچھ نہیں سکتا۔بس چلے تو ہر ایک کو روبرو بٹھا کر جواب لکھوں۔“ آپ نے تحریر کیا ہے کہ اب میں کسی شعر پر بچگانہ تبصرہ نہیں کروں گی۔آپ بچگانہ تبصرے بے شک کیا کریں۔اچھا لگتا ہے۔خلوص کے ساتھ کی ہوئی بچگانہ حرکتیں کیسے بُری لگ سکتی ہیں۔مگر بچگانہ تبصروں پر اصرار نہ کیا کریں اور اگر نہ مانوں تو ناراض نہ ہو جایا کریں۔“ باندھا ہے ترے نام کا اک باب علیحدہ آپ نے میری ساری ڈاک پڑھنے اور اس میں سے پیار بھرے جملے جمع کرنے کی خواہش کا اظہار بڑے شوق سے کیا ہے۔عقیدت اور محبت کے پرخلوص جذبات پر مشتمل ایسے خطوط میں سے خود اپنے خطوں تک تو بہر حال آپ کی رسائی موجود ہے۔اور وہی پورا باب بن جائیں گے۔یہ ایک باب ہی بہت کافی ہے ورنہ مکمل کتاب کے لئے تو پھر بہت لمبے وقت اور محنت کی ضرورت ہوگی۔بعض ایسے خط جن کا آپ نے ذکر کیا ہے میں الگ رکھتا ہوں لیکن اب تو ان کے بھی 340