سفر آخرت — Page 79
79 آخرت کی بہتری کے لئے تدبیریں بھی کرتا رہتا ہے۔آنحضرت نے ابن عمر سے فرمایا کہ صبح اُٹھو تو یوں نہ سمجھو کہ شام تک ضرور زندہ رہو گے اور شام کو بھی یہ خیال نہ کرو کہ صبح کو زندہ ہی اُٹھو گئے۔ایک مرتبہ جناب اُسامہ نے ایک ماہ کے لئے کوئی چیز اکٹھی خرید لی۔حضور نے سنا تو فرمایا کہ اُسامہ سے کچھ بعید نہیں کیونکہ وہ لمبی چوڑی زندگی کی امیدیں باندھے ہوئے ہے۔پھر فرمایا کہ قسم ہے اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جب پلک جھپکتا ہوں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد شائد آنکھ نہ کھول سکوں اور مر جاؤں اس طرح جب آنکھ کھولتا ہوں تو یہ خیال کرتا ہوں کہ شائد اب جھپکنے کی نوبت نہ آئے۔۹۹۔زندگی کا آخری میدان ابو موسیٰ اشعری نے آخری عمر میں حد درجہ کی ریاضت اور مجاہدہ شروع کر دیا تھا جو ان کی عمر اور ضعیفی کے اعتبار سے بہت شدید اور سخت تھا۔لوگوں نے کہا کہ اس محنت اور تکلیف میں کچھ کمی کر دیجئے۔آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟ فرمایا گھوڑا دوڑنے کو ہر جگہ دوڑتا ہی رہتا ہے۔لیکن جب میدان جنگ میں دوڑتا ہے تو اپنا پورا زور لگا دیتا ہے۔میری عمر کا بھی آخری میدان ہے اور موت بالکل سامنے دکھائی دے رہی ہے پھر اگر ریاضت و مجاہدہ میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھوں تو اس میں حیرت کی کون سی بات ہے؟ ۱۰۰۔موت کی تین طرح یاد جانا چاہئے کہ موت کا یاد کرنا بھی تین طرح کا ہوتا ہے ایک قافلوں کا طریق ہے کہ دنیا میں سرتا پا مستغرق ہوتے ہیں اور موت کو یاد کر کے اس سے کراہت و نفرت کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ یہ خوف دامنگیر ہوتا ہے کہ پیاری دنیا ہم سے چھوٹ جائے گی۔دوسرا انداز موت کو یاد کرنے کا وہ ہوتا ہے جو اہل تو بہ اختیار کرتے ہیں۔