سفر آخرت — Page 80
80 تائب موت اسی لئے یاد کرتے ہیں کہ خوف اُس پر زیادہ سے زیادہ حد تک غالب رہے اور وہ ہمیشہ تو بہ و استغفار میں مشغول رہ سکے۔تائب کو موت سے کراہت نہیں ہوتی بلکہ کراہت اس کے جلد آ جانے پر ہوتی ہے کیونکہ زاد آخرت ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا ہوتا۔تیسرا انداز ایک عارف کا انداز ہے۔وہ موت کو اس لئے یاد کرتا ہے که دیدار حق کا وعدہ یہی ہے کہ موت کے بعد نصیب ہوگا۔پھر وہ اس وقت کو فراموش کرے تو کیونکر جب اُسے دیدار دوست کی لذت نصیب ہو گی۔پس وہ ہر وقت موت کا انتظار کرتا ہے۔۱۰۱ تسلیم ورضا کا مقام اور ایک درجہ ایسا بھی ہے جو مذکورہ بالا تینوں درجوں سے بھی بلند تر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ترین درجہ ہی وہ ہے اس میں انسان کو موت سے نہ نفرت و کراہت ہوتی ہے اور نہ اس کی خواہش و انتظار۔نہ اس کے جلد آ جانے کی آرزو کرتا ہے اور نہ دیر سے آنے کا خواہشمند ہوتا ہے بلکہ وہ حق تعالٰی کے حکم پر راضی رہتا ہے اور اپنے اختیار سے یکر علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس عظیم مقام پر پہنچ جاتا ہے جسے تسلیم و رضا کا مقام کہتے ہیں۔اور یہ مقام جس کو حاصل ہوتا ہے اُسے موت یاد تو ضرور آتی ہے لیکن یوں بھی نہیں کہ ہر وقت ذہن پر مسلط رہے کیونکہ اُسے اس دنیا میں بھی مشاہدہ حق اکثر نصیب ہو جاتا ہے اور ذکر الہی اُس کے دل پر اس طرح غالب رہتا ہے کہ زندگی اور موت میں اُسے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا اور دے بھی کیسے جب کہ دل ہمہ وقت یاد الہی میں مستغرق اور محبت حق تعالی میں ڈوبا رہتا ہے۔