سفر آخرت — Page 58
58 مردے کے لئے اور نہ دینے والے کے واسطے کچھ فائدے کی بات ہے۔۶۰۔جس کے ہاں ماتم ہو اس کے ساتھ ہمدردی ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۶ ) حضرت مسیح موعود سے سوال کیا گیا۔کیا یہ جائز ہے کہ جب کار قضاء کسی بھائی کے گھر میت ہو جائے تو دوسرے دوست کھانا تیار کریں؟ آپ نے فرمایا نہ صرف جائز ہے بلکہ برادرانہ ہمدردی کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ایسا کیا جائے۔۶۱۔میت کے لئے دعا ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۳۰۴) حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا میت کے واسطے دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس کے ان قصوروں اور گناہوں کو بخشے جو اس نے اس دنیا میں کئے تھے اور اس کے پسماندگان کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ا) ۶۲۔میت پر رنگدار کپڑے اور پھول ڈالنا پسندیدہ نہیں حضرت ام طاہر کا کفن بالکل سفید کپڑے کا تھا میت پر نہ تو کسی قسم کا رنگدار کپڑا تھا اور نہ پھول وغیرہ بکہ لاہور کی بعض خواتین اپنے ساتھ پھول لائی تھیں جس حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے منع فرما دیا اور فرمایا حقیقت خدا کے حضور حاضر ہونے کے وقت سادگی اور صفائی ہی بجتی ہے۔۶۳۔مُردے کا اسقاط تابعین اصحاب احمد جلد سوم - سیده ایم طاہر صفحہ ۱۱۰) ملاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں یہ بھی ان میں سے ایک ہے مردے کے اسقاط میں قرآن شریف کو چکر دیتے ہیں یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے انسان خدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہوسکتا جیتک سب نظر خدا