سفر آخرت — Page 59
59 پر نہ ہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۶۰۵ ) ۶۴۔میت کے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں حضرت مسیح موعود نے فرمایا قل خوانی کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے صدقہ دعا اور استغفار میت کو پہنچتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ملانوں کو اس کا ثواب پہنچ جاتا ہے سواگر اُسے ہی مردہ تصور کر لیا جائے ( اور واقعی ملاں لوگ روحانیت سے مردہ ہی ہوتے ہیں ) تو ہم مان لیں گے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۶۰۵ بحوالہ ایڈیٹر البدر ) ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں دین تو ہم کو نبی کریم نے سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں صحابہ کرام بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے صد ہا سال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بدعت بھی نکل آئی ہوئی ہے۔۶۵۔نماز جنازہ کسی ایسے متوفی کا جو بالجبر مکفر اور مکذب نہ ہو حضرت مسیح موعود نے فرمایا ایسے متوفی کا جو بالجبر مکفر اور مذب نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خدا کی ذات ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۱۵) -۶۶- کیا میت کو صدقہ خیرات اور قرآن شریف کا پڑھنا پہنچتا ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا میت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جاوے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف کا پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریم ) صحابہ سے ثابت نہیں ہے اس کی بجائے دعا ہے جو میت کے حق میں کرنی چاہئے میت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دنے جائے کیونکہ اس کے