سفر آخرت — Page 52
52 ۵۴۔تمام احمدی خواتین کیلئے صبر و رضا کا بہترین نمونہ حضرت مسیح موعود کی زوجہ محترمہ حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم (حضرت اماں جان ) حضرت اماں جان اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں رضائے الہی پر سرتسلیم خم کرنے کا یہ عالم کہ پانچ بچے کم عمری میں فوت ہو جاتے ہیں لیکن بے صبری کا کوئی کلمہ زبان پر نہیں آتا یوں بھی ہوا کہ بچے کی آخری حالت ہے نماز کا وقت ہو رہا ہے فرماتی ہیں۔اب اس کے بچنے کی تو کوئی صورت نہیں پھر میں اپنی نماز کیوں قضا کروں۔پھر اطمینان سے نماز ادا کر کے بچے کا حال دریافت فرماتی ہیں اور یہ جواب ملنے پر کہ فوت ہو گیا ہے صبر کے الفاظ ادا کر کے خاموش ہو جاتی ہیں۔اسی طرح مرزا مبارک احمد جو آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گئے تھے اس وقت صرف زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ” میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں“ اللہ تعالیٰ کو یہ ادا اتنی پسند آئی کہ فرمایا ” خدا خوش ہو گیا جب حضرت اقدس بائی سلسلہ احمدیہ نے حضرت اماں جان کو بتایا تو بے ساختہ بولیں کہ مجھے اس پاک کلام سے اس قدر خوشی ہے کہ اگر دو ہزار مبارک بھی مرجاتا تو پرواہ نہ کرتی۔مجله تقریب صد سالہ جشن تشکر صفحه ۶۹) حضرت مسیح موعود کی وفات کے موقع پر اس صبر و رضا کی چٹان یعنی (اماں جان ) نے کمال صبر و تسلیم اور تو کل الی اللہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا کے حضور عرض کی۔اے میرے پیارے خدا! یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑیو بچوں کو اپنے پاس بلا کر بڑے درد اور خوشی سے فرمایا :-