سفر آخرت

by Other Authors

Page 51 of 84

سفر آخرت — Page 51

51 ۵۳۔اللہ کی مشیت کے نتائج کو بھلا دینا چاہئے (1) حضرت عبد اللہ بن عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو آپ تجهیز و کفین سے فارغ ہو کر بدوؤں کی دوڑ کے مقابلے میں شرکت کرنے لگے حضرت نافع نے کہا ابھی تو آپ بیٹے کو دفن کر کے آئے ہیں اور اب بدوؤں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا اللہ کی مشیت نے جو کام کر دیا اس کے نتائج کو جس طرح بھی ممکن ہو بھلا دینا چاہیے۔(۲) غزوۂ احد سے واپسی پر حضرت حمنہ بنت بخش نے اپنے عزیز واقارب کا ے اپنے عزیز وا حال پوچھا آنحضرت ﷺ نے فرمایا حمنہ اپنے بھائی عبد اللہ پر صبر کرو" انہوں نے یہ سن کر مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی اور صبر کیا۔آنحضرت مے نے پھر فرمایا۔”حمند اپنے ماموں حمزہ بن عبد المطلب پر بھی صبر کرو انہوں نے پھر دعائے مغفرت کی اور خاموش رہیں۔سوگ کی مدت افسوس اور تعزیت کی حالت تین دن تک قائم رکھی جائے اس کے بعد زندگی معمول پر آجانی چاہئے البتہ جس عورت کا خاوند مر جائے وہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے یعنی بلا اشد ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے بناؤ سنگھار نہ کرے بھڑکیلے کپڑے نہ پہنے خوشبو کا استعمال نہ کرے خوشی کی تقریبات میں شامل نہ ہو صبر و شکر کے ساتھ ذکرِ الہی میں دن گزارے۔