سفر آخرت — Page 50
50 اُن کا ہے وہ واپس مانگنے کے حقدار ہیں اور تجھے یہ واپس کرنا ہی پڑے گا یہ جواب سُن کر وہ عورت کہنے لگی میں اللہ تجھ پر رحم کرے کیا تو اس چیز پر قائم اور سوگ کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عاریتہ دی تھی اور اپنی چیز واپس لے لی کیونکہ اس کی امانت تھی اور اس نے اپنا ہی حق واپس لیا ہے اس دانا عورت کی یہ بات سُن کر عالم کی آنکھیں کھل گئیں اسے صبر کی توفیق ملی اور معمول کی زندگی شروع کر دی۔موطا امام مالک کتاب الجنائز جامع الحية في المصيبة ) ۵۲۔اللہ تعالیٰ کی امانت ابو عمیرا بھی بچہ ہی تھے کہ حضرت ابوطلحہ کی عدم موجودگی میں فوت ہو گئے۔حضرت ام سلیم نے ان کی رحلت پر صبر و استقلال سے کام لیا خاموشی سے ان کی میت کو کفن پہنا کر ایک طرف رکھ دیا اور گھر والوں کو منع کر دیا کہ حضرت ابوطلحہ کو آتے ہی ابو میر کی المناک موت کی خبر نہ دیں رات کو ابوطلحہ آئے انہیں کھانا کھلایا اور وہ اطمینان سے لیٹ گئے تو ام سلیم نے ان سے پوچھا اگر تمہیں کوئی چیز مستعار دی جائے اور پھر واپس لے لی جائے تو کیا اس کا واپس لیا جانا تمہیں نا گوار گزرے گا ؟ حضرت ابوطلحہ نے جواب دیا ہر گز نہیں۔بولیں تمہارالڑ کا بھی اللہ کی امانت تھی جو اس نے واپس لے لی تھی اب اس کی طرف سے صبر کرنا چاہئے۔ابو لہ نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور ان سے کہا تم نے پہلے کیوں نہ بتایا بولیں اس لئے تا کہ تم اطمینان سے کھانا وغیرہ کھالو۔صبح اٹھ کر ابو طلحہ رسول کریم نے کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا حضور نے حضرت ام سلیم کے صبر و رضا پر ان کی تعریف فرمائی اور نعم البدل کے لئے دعا کی اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عبداللہ فرزند عطا فرمایا جس سے ابوطلحہ کی نسل چلی۔