سفر آخرت

by Other Authors

Page 49 of 84

سفر آخرت — Page 49

49 چند دوسرے صحابی تھے جب وہاں پہنچے تو بچہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ نے گود میں لے لیا بچہ نزع کی حالت میں تھا یہ دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو سعد نے کہا یا رسول اللہ یہ رونا کیسا؟ آپ نے فرمایا یہ رحم کے آنسو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کے دل میں فطرہ ودیعت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔( نسائی کتاب الجنائز باب الامر بالاحتساب والمعمر ) صبر کی فضیلت کے بارے میں قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی فوت ہو گئی تو تعزیت کے لئے میرے پاس محمد بن کعب قرظی تشریف لائے اور بسلسلہ تعزیت و تسلی یہ حکایت سنانے لگے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا فقیہ عالم اور عبادت گزار بزرگ شخص تھا اس کی بیوی فوت ہو گئی جو بہت خوبصورت تھی اور اس کو بہت پیاری تھی بیوی کے مرنے کی وجہ سے اس عالم کو بہت غم ہوا اور اس قدر افسوس ہوا کہ اس نے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور گھر میں بند ہو کر بیٹھ گیا تا کہ اس کے پاس کوئی بھی نہ آسکے ایک عورت کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ آئی اور کہا کہ میں ایک اہم فتویٰ پوچھنے کے لئے آئی ہوں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔آئے ہوئے تمام لوگ ملے بغیر چلے گئے لیکن یہ عورت جم کر بیٹھ گئی اور کہا کہ میں ملے بغیر نہیں جاؤں گی اس عالم کو گھر والوں میں سے کسی نے جا کر بتایا کہ سب لوگ تو چلے گئے ہیں لیکن ایک عورت جانے کا نام نہیں لیتی۔کہتی ہے بالمشافہ ایک مسئلہ پوچھنا ہے اس عالم نے کہا اچھا اس کو اندر آنے دو اندر آ کر اس نے عالم سے فتویٰ پوچھا میں نے اپنے پڑوسی سے کچھ زیور عاریتہ لیا تھا میں اس زیور کو کافی عرصہ پہنتی رہی اب انہوں نے وہ زیور واپس مانگ بھیجا ہے لیکن مجھے یہ زیور بہت پسند ہے واپس کرنا ہو گا دل تو واپس کرنے کو نہیں چاہتا اس فقیہہ اور عالم نے کہا کیوں نہیں اس زیور کا واپس کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ