سفر آخرت — Page 45
45 ہیں صحابہ نے جب اس آیت کو سنا تو انہیں ایسا معلوم ہوا یہ آیت اب اتری ہے انہوں نے معلوم کیا کہ آپ کے مقابلہ میں کوئی اور زندہ نہیں ہے۔حسان بن ثابت نے اس موقعہ پر ایک مرثیہ لکھا جس میں وہ کہتے ہیں۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى - فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِر مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ - فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے میرے پیارے نبی تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا اور میرے دیدوں کا نور تھا پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا ہوں اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۳۵) حضرت مسیح موعود ایک اور جگہ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہ کس قدر بیقرار ہو گئے تھے انہیں قرار نہیں آیا جب تک حضرت ابو بکر صدیق نے خطبہ پڑھ کر سب انبیاء علیہم السلام کی وفات پر اجماع نہ کرالیا فرمایا یہ کیا ہی مبارک اجماع تھا اگر یہ اجتماع نہ ہوتا تو بڑا بھاری فتنہ اسلام میں پیدا ہوتا۔اسلام میں سب سے پہلا اجماع وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ال عمران : ۱۴۵) ہی پر ہوا ہے حضرت ابو بکر صدیق کا منشاء تو اس صدمہ کو دور کرتا تھا اور وہ مرگ یاراں جتنے دار دہی سے دور ہونا تھا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه ۳۳۵) آنحضرت ﷺ کی وفات کوئی معمولی اور چھوٹا امر نہ تھا جس کا صدمہ صحابہ کو نہ ہوا ہوا ایک گاؤں کا نمبر دار یا محلہ دار یا گھر کا عمدہ آدمی مر جائے تو گھر والوں یا محلہ والوں یا دیہات والوں کو صدمہ ہوتا ہے پھر وہ نبی جو گل دنیا کے لئے آیا تھا اور رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْن ہو کر آیا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِين (الانبیاء: ۱۰۸) اور پھر دوسری جگہ فرمایا قل يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً (الاعراف : ۱۵۹)