سفر آخرت

by Other Authors

Page 44 of 84

سفر آخرت — Page 44

44 مرد سر پر راکھ ڈالتے ہیں تھوڑے عرصہ کے بعد ہی صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ایک عورت کا ذکر ہے کہ اس کا بچہ مر گیا وہ قبر کھٹڑی سیا پا کر رہی تھی آنحضرت ﷺ وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا تو خدا سے ڈر اور صبر کر اس کمبخت نے جواب دیا کہ تو جا تجھ پر میرے جیسی مصیبت نہیں پڑی بد بخت نہیں جانتی تھی کہ آپ گیارہ بچوں کے فوت ہونے پر صبر کرنے والے ہیں جب اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو نصیحت کرنے والے خود آنحضور تھے تو پھر آپ کے گھر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں صبر کرتی ہوں آپ نے فرمایا " الصَّبَرُ عِندَ الصَّدَمَة الأولى" مبروہ ہے جو پہلے ہی مصیبت پر کیا جائے غرض بعد میں وقت گذرنے پر رفتہ رفتہ صبر کرنا ہی پڑتا ہے صبر وہ ہے جو ابتدا ہی میں انسان اللہ تعالیٰ کی خاطر کرے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیتا ہے یہ صبر کرنے والوں کا مقدر ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۴۱۸ - ۴۱۹) ۴۵۔آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہ کی بیقراری اور فرط اغم آپ ﷺ کی وفات پر صحابہ کی کیا حالت ہوئی تھی دو دیوانہ وار پھرتے تھے آپ کی زندگی اُن کو اتنی عزیز تھی کہ حضرت عمر نے تلوار کھینچ لی تھی کہ اگر کوئی آپ کو مردہ کہے گا تو میں اُس کا سر اُڑا دونگا اس شور پر حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے آگے بڑھ کر آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ آپ کی وفات پر خدا تعالی دو موتیں جمع نہ کرے گا اور پھر یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : (۱۴۵) یعنی آنحضرت ملالہ بھی ایک رسول ہیں پہلے جس قدر رسول آئے سب وفات پاگئے