سفر آخرت

by Other Authors

Page 43 of 84

سفر آخرت — Page 43

43 پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔تاریخ دان جانتے ہیں کہ آپ کے گھر گیارہ لڑ کے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے آپ نے ہرلڑ کے کی وفات کے وقت یہی کہا مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جولخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھ کو مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولا د سے کچھ تعلق نہیں۔(روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت حصہ دوم) ۴۳۔صبر کے بارے میں قرآنی ارشاد وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ ترجمہ: جو تجھے تکلیف پہنچے اس پر صبر کر (سورۃ لقمان ) کے مطابق تکلیف پر صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ صابرین سے محبت رکھتا ہے اور ان کا دوست بن جاتا ہے۔سورة بقره رکوع ۱۹ (وَبَشِّرِ الصَّابِرِين سے الْمُهْتَدُونَ) ترجمہ: اور تو ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے جنہیں جب مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔۲۴۔صبر وہ ہے جو صدمہ کی ابتدائی حالت میں کیا جائے وقت تو نہر حال گذر جاتا ہے گوشت پلاؤ کھانے والے بھی آخر مر جاتے ہیں لیکن جو شخص تلخیاں دیکھ کر صبر کرتا ہے اس کو بالآخرما جر ملتا ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی اس بات پر شہادت ہے کہ صبر کا اجر ضرور ملتا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی خاطر صبر نہیں کرتے ان کو بھی صبر کرنا ہی پڑتا ہے پھر نہ وہ ثواب ہے نہ اجر کسی عزیز کے مرنے کے وقت عورتیں سیا پا کرتی ہیں بعض نادان