سفر آخرت

by Other Authors

Page 42 of 84

سفر آخرت — Page 42

42 منصب نقاص تھا۔اسی طرح بنو قریظہ کو جب ان کی سرکشی کی سزادی گئی تو ان کی نعشوں کو خندقیں کھدوا کر دفن کیا گیا۔(سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۲۵۹) آنحضرت نے اپنے چچا اور حضرت علی کے والد ابوطالب کی وفات پر حضرت علی کو ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے والد کی تجہیز وتکفین کریں اور غسل دیں پھر ان کو ( السيرة الجليله جلده اصفحه ۳۸۹) دفنا ئیں۔۴۲۔وفات پر تعزیت وفات ہو جانے پر ضروری ہے کہ پسماندگان صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ ہیں۔صبر سے مراد یہ نہیں کہ انسان کو غم نہ ہو بلکہ صبر سے مراد یہ ہے کہ ایسا غم نہ جو حواس جاتے رہیں اور عقل اور قوت عملیہ باطل ہو جائے یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی فطرت انسانی کے مطابق تعلیم ہے نہ غم سے روکا کہ وہ فطرتی امر ہے نہ جزع فزع اور کام چھوڑ دینے کی اجازت دی کہ یہ بزدلی اور کم ہمتی کی علامت ہے مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جزع فزع کرنے کی بجائے پورے یقین اور ایمان کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یہ وہ نمونہ ہے جس کی اللہ تعالٰی اپنے مومن بندوں سے امید رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ جب انہیں تکلیف پہنچے تو وہ گھبرانے اور جزع فزع کرنے کی بجائے خدائے تعالیٰ پر توکل رکھیں اُسی کو حاضر ناظر سمجھتے ہوئے کچے دل سے یہ کہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون بظاہریہ چھوٹا سا فقرہ ہے مگر اپنے اندر وسیع مطالب رکھتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد دوم سورۃ بقرہ آیت ۱۵۷ حضرت مصلح موعود ) إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون یعنی ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف ہمارا رجوع ہے سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلے آنحضرت اللہ کے منہ سے نکلے